کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلے میں کہ میں ایک دوا ساز کمپنی میں جاب کرتا ہوں بحیثیت اکاونٹینٹ ، شاید آپ جانتے ہوں کہ دوا ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات (ادویات) ڈاکٹروں سے لکھوانے کے لئے ڈاکٹروں کو پیسے دیتی ہیں، اب چاہے پر پیس پے کچھ کمیشن کی صورت میں ہو یا آفس کی مرمّت کی صورت میں ہو، کچھ ڈاکٹروں کو ماہانہ پیسے دیے جاتے ہیں، فروخت جتنے کی ہو ،اس حساب سے فیصد باندھی جاتی ہے، لیکن کوئی سودی نظام نہیں ہے، کیا میرا یہاں کام کرنا جائز ہے ؟ جو پیسے مجھے حساب وکتاب رکھنے کے بدلے میں ملتے ہیں یہ جائز ہیں میرے لئے ؟ میں یہ سوال اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرے پیسوں میں برکت نہیں ہے تنخواہ آنے سے پہلے ٹھکانے لگانے کی ترتیب ہو جاتی ہے ۔
واضح رہے کہ کسی دواساز کمپنی کا اپنی دواؤں کی فروختگی اور ان کی تشہیر کے لئے ملازمین کو رکھنا اور انہیں باقاعدہ کمیشن یا تنخواہ دینا نیز جو ڈاکٹر حضرات جائز طریقے سے دواؤں کی فروختگی میں ان کی معاونت کریں، انہیں بھی مخصوص مقدار تک کمیشن اور گفٹ وغیرہ دینا اور ڈاکٹروں کا اسے لینا شرعاً جائز ہے۔ چنانچہ سائل کے لئے بھی مذکور ملازمت کو برقرار رکھنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، جبکہ برکت کے لئے غیر ضروری اخراجات میں کنٹرول کے ساتھ نمازوں کی پابندی اور دعا کا اہتمام مفید رہے گا۔
كما في حاشية ابن عابدين: مطلب في أجرة الدلال [تتمة] قال في التتارخانية: و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به اھ (6/ 63)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1