کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے مسجد میں ایک عالم ہے، مسجد کے مؤذن کو مجبور کرتا ہے زبردستی ، کہ آپ جمعہ کے دن ظہر کا وقت داخل ہوتے ہوئے فوراً اذان دو ، حالانکہ عام دنوں میں ایک بجے اذان ہوتی ہے ، ۱:۳۰ بجے نماز ہوتی ہے اور جمعہ کی نماز سوا دو بجے ہوتی ہے ، کیا خاص فضائل ہیں ؟جمعہ کے دن اول وقت میں اذان دینے کی ؟
اول وقت میں اذان دینا کوئی ضروری نہیں ، بلکہ مستحب یہ ہے کہ اذان اور نماز کے درمیان اتنا فاصلہ رکھا جائے کہ کھانا کھانے والا کھانا کھا کرفارغ ہو جائے، قضائے حاجت کرنے والا اپنی ضروریات پوری کرکے فارغ ہوجائے، لہٰذا سوال میں مذکور عالم موصوف کا مؤذن کو جمعہ کے دن ظہر کا وقت داخل ہوتے ہی اذان دینے پر مجبور کرنا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
فی الفتاوى الهندية : ينبغي أن يؤذن في أول الوقت و يقيم في وسطه حتى يفرغ المتوضئ من وضوئه و المصلي من صلاته و المعتصر من قضاء حاجته . كذا في التتارخانية ناقلا عن الحجة . اھ (1/ 57)۔
و فی حاشية ابن عابدين : قيل إنه مشروع ؛ لأنها تؤدى في وقت الظهر و تقوم مقامه ، و قال الجمهور: ليس بمشروع ؛ لأنها تقام بجمع عظيم ، فتأخيرها مفض إلى الحرج و لا كذلك الظهر اھ (1/ 367)۔