کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک قطعۂ اراضی ہے،جو کہ شیعہ حضرات کی تھی اور اس میں وہ لوگ اپنے مردے دفن کرتے تھے،پھر بعد میں انہوں نے اس میں تدفین بند کردی،سرکاری کاغذات میں اس زمین کے متعلق جن لوگوں کے نام درج چلے آرہے تھے،ان کے وارثان نے اس زمین کی پلاٹنگ کرکے فروخت کردی،ایک ٹکڑا "الف" نے بھی خریدا،پھر الف سے "ب" نے خریدا،"ب" کو یہ ساری معلومات خریداری کے ڈیڑھ سال کے بعد ہوئیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
(1)"ب" اس خریدی ہوئی زمین کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے؟ یا اسے فروخت کرسکتا ہے؟
(2)اگر نہیں تو اس زمین کا کیا کرے؟اور کیا "ب " اس زمین میں لگائی ہوئی رقم ضائع سمجھ لے؟
مذکور زمین اگر باقاعدہ طور پر قبرستان کے لئے وقف نہیں کی گئی تھی،بلکہ شیعہ کمیونیٹی کے لوگ اس میں عارضی طور پر اپنے مردے دفن کرتے تھے،تو یہ زمین مالکان کی ملکیت میں برقرار رہی،اس لئے جب مالکان کے شرعی ورثاء سے(الف) نے زمین خریدی تو اس سے وہ اس زمین کا مالک بن گیا، اس کے بعد(الف) کے لئے آگے کسی اور شخص(ب) کو فروخت کرنا بھی جائز اور درست واقع ہوچکا ہے، اور اس خریداری کے نتیچے میں (ب) مذکور زمین کا مالک ہوگیا ہے، لہذا وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرسکتا ہے ، لیکن اس میں اس وقت تک تصرف کرنا درست نہیں ،جب تک اس میں مدفون مردوں کے متعلق اس بات کا یقین نہ ہوجائے کہ وہ گل سڑکر مٹی بن چکے ہیں۔
کمافی الھندیة: ولو بلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ في قبرہ وزرعه والبناء علیه،کذا فی التبیین اھ(1/167)۔
وفی شرح المجلة: (کل یتصرف فی ملکه کیف شاء لکن إذا تعلق حق الغیر به یمنع المالك من تصرفه علیٰ وجه الاستقلال اھ(4/132)
وفی الدر المختار: (هو) لغة الحبس. وشرعا (حبس العين على) حكم (ملك الواقف والتصدق بالمنفعة) ولو في الجملة، والأصح أنه (عنده) جائز غير لازم كالعارية (وعندهما هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى ابن الكمال وابن الشحنة اھ(4/339)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1