مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اگر بیٹے نے اپنی ماں کو کہا کہ ’’اگر میں نے یہ دھندا کیا تو مجھ پر میری بیوی کو تین طلاق ہوں ‘‘تو کیا اس کہنے پر طلاق واقع ہو جائے گی ؟
بیٹے نے جس دھندے کے ساتھ تین طلاقوں کو معلّق کیا ہے اگر بیٹا وہ دھندا اختیار کر لے تو شرط پائی جانے کی وجہ سے معلّق تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی،اس لئے مذکورشخص کو چاہئیے کہ وہ دھندا اختیار نہ کرے جس کے ساتھ طلاقوں کو معلّق کیا ہے ۔
کمافی الھندیة: [الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما]إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح(الی قوله) وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا اھ(1/420)-
وفی بدائع الصنائع: (فصل) :وأما حكم هذه اليمين فحكمها واحد وهو وقوع الطلاق أو العتاق المعلق عند وجود الشرط فتبين أن حكم هذه اليمين وقوع الطلاق والعتاق المعلق بالشرط اھ(3/30)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0