میں نے بیوی کو کہا کہ اگر آئندہ نماز نہ پڑھی تو طلاق دے دونگا اور یہ لفظ میں نے دو دفعہ کہا کہ اگرآئندہ نماز نہ پڑھی تو طلاق دے دوں گا براے مہربانی اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں ؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو تو سائل کا مذکور جملہ ’’اگر آئندہ نماز نہیں پڑھی تو طلاق دیدوں گا " وعدہ طلاق اور ایک قسم کی طلاق کی دھمکی ہے اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم آئندہ کیلئےسائل کو طلاق کے الفاظ استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔
کما الشامیة:بخلاف قولها أطلق نفسي لا يمكن جعله إخبارا عن طلاق قائم لأنه إنما يقوم باللسان، فلو جاز لقام به الأمران في زمن واحد وهو محال(3/319)
وفی الدرالمختار : بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة اھ(3/319)۔
وفي الهندية : ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك. في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا(1/384)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0