سوال: السلام علیکم !(1) میر اسوال کنایہ الفاظ کے بارے میں ہے، میں نے سنا ہے کہ طلاق کی نیت سے کوئی بھی الفاظ کہے جائیں تو طلاق ہو جاتی ہے میں نے یہ پوچھنا ہے کہ اگر شوہر بیوی سے معمول کی بھی کوئی بات کرے اور اس کے دل میں طلاق کا خیال آجائے تو کیا یہ بھی طلاق شمار ہو گی، مثال کی طور پر شوہر کہے کہ میرے لئے کھانا لے آؤں ، طلاق کی نیت سے کیا مراد ہے مہربانی فرما کر ذرا تفسیر سے وضاحت فرمادیں بعض مرتبہ غصے میں بیوی سے لڑائی کی دوران طلاق ذہن میں آجاتا ہے تو کیا اس کو طلاق کی نیت کہیں گے ، یہ میں اسلئے پوچھنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے ہر وقت طلاق کے بارے میں بہت وسوسے آجاتے ہیں اور بعض اوقات بیوی سے غصے میں کچھ کہہ بھی دیتا ہوں تو کیا اسے طلاق کی نیت شمار کرینگے ؟
واضح ہو کہ طلاق کی نیت سے کوئی بھی لفظ کہہ دینے سے شرعا طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ جن الفاظ میں جدائی یا علیحدگی کا معنی پایا جاتا ہو اور طلاق کی نیت سے وہ الفاظ کہے جائیں تو ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے جبکہ نیت دل کے قصد وارادے کا نام ہے لہذا سائل نے جو الفاظ ذکر کئے ہیں میرے لئے کھانا لاؤ ان سے طلاق کی نیت کے باوجود بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی اس لئے سائل کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما في الفتاوى الهندية :الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرةالنیرۃ ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير )أمرك بيدك، اختاري اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبی قومي تقنعی استتري تخمري وما يصلح جوابا وشتما )خلية برية بتة بتلة بائن حرام الخ (1/379) والله اعلم بالصواب
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0