السلام علیکم جناب! ہمارے علاقے میں اور ساتھ کے کچھ علاقوں میں روزانہ یہ ہفت وار درسِ قرآن ہوتا ہے، ہمارے کچھ تبلیغی بھائی درس میں نہیں بیٹھتے اور کہتے ہیں کہ ”کیا صحابہ نے کبھی درسِ قرآن منعقد کیا ہے، جو آپ لوگ کرتے ہیں؟ صحابہ تو صرف ایمان کی بات کرتے تھے “ کیا فرماتے ہیں علماء کہ ان حضرات کا یہ کہنا قرآن و سنت کے مطابق ہے اور کیا یہ ان کی ذاتی رائے ہے یا تبلیغی جماعت کایہ عقیدہ ہے، کیا واقعی درسِ قرآن سے امت میں توڑ پیدا ہوتا ہے؟
واضح ہو کہ سوال میں مذکور افراد کا طرزِ عمل ذہنی جمود، تعصب و تعنت کا شکار چند افراد کا نظریہ تو ہو سکتا ہے، تبلیغی جماعت کا یہ نظریہ اور عقیدہ نہیں، ان حضرات کا یہ کہنا کہ صحابہ صرف ایمان کی بات کرتے تھے، درسِ قرآن نہیں دیتے تھے، یہ سراسر جہالت اور دین و تاریخ سے ناواقفیت کی بیّن دلیل ہے، جبکہ قرآن سے امت میں اتحاد و اتفاق، رواداری اور بھائی چارگی کی فضا قائم ہوتی ہے نہ کہ افتراق و انتشار کی، اس قسم کا عقیدہ و نظریہ رکھنے والوں کو اپنے ایمان کی فکر اور ایسے نظریہ سے احتراز چاہیے، کیونکہ تبلیغ تو ہے ہی قرآن و حدیث کی، اوراسی كا اہتمام چاہیے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾ [الجمعة: 2]
وقال اللہ تعالیٰ أیضاً: ﴿يَاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۔ الآیة﴾ (المائدة: 67)
وفي مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بلغوا عني ولو آية۔ الحدیث (1/70)
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0