کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک فرقہ جو کہ توحیدی کے نام سے ہے، جو لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے اور علماءِ دیوبند کے بارے میں قسم قسم کی باتیں کرتا ہے کہ یہ لوگوں کے ذہن کو خراب کرتے ہیں، قبروں اور مزاروں سے مانگناجائز ہے کیونکہ آدم علیہ السلام نے حضور ﷺ کو وسیلہ بنا کر اللہ سے دعامانگی ہے، اس لیے ہم ان قبروالوں سے مانگتے ہیں، اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ فضائلِ اعمال مجنون آدمی نے لکھی ہے اوریہ صحیح نہیں ہے اور علماءِ دیوبند کو مسلمان تک تسلیم نہیں کرتے ، بریلوی کو اچھا مذہب سمجھتے ہیں ، ان کے بارے میں کہ ان کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا کاروبار و غیرہ کرنا کیسا ہے؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں تفصیلاً جواب دے کر ممنون فرمائیں۔شکریہ
مذکور گروہ کیپٹن مسعود الدین عثمانی کا پیروکار ہے جو غلو کا شکار اور اعتدال سے ہٹا ہوا اور بعض مسائل میں گمراہی کے راستے پر چل رہا ہے، چونکہ ان کی اصلاح کی کوششیں کرنے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والے علماءِ دیوبند ہی ہیں، جنہیں وہ اپنے غلط مسائل پھیلانے کے سلسلہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ اپنے حلقۂ احباب کو ان سے متنفّر کرنے کی سعی لاحاصل کرتے رہتے ہیں، اس کے بعد واضح ہو کہ علماء ِدیوبند قبروں سے مرادیں مانگنے کو ناجائز اور حرام ہی سمجھتے ہیں، ان کی طرف مذکور باتیں منسوب کرنا بدیانتی پر مبنی ہے ، البتہ وسیلہ چاہے وہ ذواتِ فاضلہ کا ہو یا اعمالِ صالحہ کا ،اس میں احادیثِ صحیحہ صریحہ کی روشنی میں تفصیل کے قائل ہیں۔
ففی روح المعانی للعلامة الآلوسی: و أعظم من ذلك أنهم يطلبون من أصحاب القبور نحو إشفاء المريض و إغناء الفقير و رد الضالة وتيسير كل عسير و توحى اليهم شياطينهم خبر "إذا أعيتكم الأمور الخ" و هو حديث مفترى على رسول الله - صلى الله عليه و سلم - بإجماع العارفين بحديثه ، لم يروه أحد من العلماء و لايوجد فى شىء من كتب الحديث المعتمدة و قد نهى النبى - صلى الله عليه وسلم - عن اتخاذ القبور مساجد و لعن على ذلك فكيف يتصور منه - عليه الصلاة و السلام - الأمر بالاستعانة و الطلب من أصحابها ، سبحانك هذا بهتان عظيم (الی قوله) و بعد هذا كله أنا لاأرى بأسا فى التوسل إلى الله تعالى بجاه النبى - صلى الله عليه و سلم- عند الله تعالى حيا و ميتا و يراد من الجاه معنى يرجع إلى صفة من صفاته تعالى مثل أن يراد به المحبة التامة المستدعية عدم رده و قبول شفاعته فيكون معنى قول القائل : إلهى أتوسل بجاه نبيك - صلى الله عليه و سلم - أن تقضى لى حاجتى إلهى" اجعل محبتك له وسيلة فى قضاء حاجتى" و لافرق بين هذا و قولك : إلهى أتوسل برحمتك أن تفعل كذا إذ معناه أيضا آلهى إجعل رحمتك وسيلة فى فعل كذا بل لاأرى بأسا أيضا بالإقسام على الله تعالى بجاهه - صلى الله عليه و سلم - بهذا المعنى و الكلام فى الحرمة كالكلام فى الجاه و لايجرى ذلك فى التوسل و الإقسام بالذات البحت نعم لم يعهد التوسل بالجاه و الحرمة عن أحد من الصحابة - رضى الله تعالى عنهم - اھ (6/128)۔
و فی صحیح البخاری: عن عمر بن الخطاب، قال فی واقعة العباس اللھم انا کنا نتوسل الیك بنبینا - صلى الله عليه و سلم - فتسقینا و انا نتوسل الیك بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون اھ(ج/1ص/137)۔
و فی المشکوة: عن عمر بن الخطاب قال إني سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول إن خير التابعين رجل يقال له أويس و له والدة وكان به بياض فمروه فليستغفر لكم اھ رواہ المسلم(ص:۵۸۲)۔
و فی جامع الترمذی: عن عثمان بن حنیف ان رجلا ضریر البصر اتی النبی - صلى الله عليه و سلم - فقال ادع اللہ ان یعافینی قال ان شئت صبرت فھو خیر لك قال فادعه قال فامرہ ان یتوضا فیحسن وضوءہ، و یدعو بھذا الدعا اللھم انی اسئلك و اتوجه الیك بنبیك محمد نبی الرحمة انی توجھت بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعه اھ (ج/2ص/197)۔
و فی مجمع بحار الانوار: فان منھم من قصد بزیارة قبول الانبیاء و الصلحاء ان یصلی عند قبورھم و یدعو عندھا و یسئلھم الحوائج و ھذا لایجوز عند احد من علماء المسلمین فان العبادة و طلب الحوائج و الاستعانة للہ وحدہ اھ(ج/2ص/73)۔
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0