برائے کرم مجھے اس حدیث کے بارے میں بتائیں جس میں یہ ہے کہ بے وضو شخص قرآن کو ہاتھ نہ لگائے؟
2- مجھے اس بات کا حوالہ دیجیئے کہ صحابۂ کرام تبلیغ کیلئے اُسی طریقے پر جاتے تھے، جس طرح کہ تبلیغی جماعت والے جاتے ہیں یا ان کے تبلیغ کا طریقہ کیا تھا؟
3- کیا عصر کی نماز کے بعد سجدۂ تلاوت کر سکتے ہیں؟
وہ حدیث درج ذیل ہے۔
كما في احكام القرآن: وروى عن النبي ﷺ في اخبار متظاهرة أنه كتب في كتابه لعمرو بن حزم لايمس القرآن إلا طاهر اھ (5/10)
2-تبلیغ کرنا عام حالات میں فرض کفایہ ہے اور بعض حالات میں فرض عین بھی ہو جاتا ہے، مگر شریعتِ مطہرہ نے اس کیلئے کوئی مخصوص طریقہ متعین کر کے لازم نہیں فرمایا، بلکہ دائرۂ شریعت میں رہتے ہوئے جو بھی طریقہ کارآمد ہو، اُسے اختیار کیا جا سکتا ہے، موجودہ تبلیغ کے طریقہ میں کوئی خلافِ شرع عنصر نہیں اور مزید یہ کہ تجربہ سے اس کا زیادہ کارآمد اور نافع ہونا معلوم ہوا ہے، اس لئے مخصوص طریقہ پر معترض ہونا یا قرآن وسنت اور صحابہ کی زندگی میں بعینہٖ اس طریقۂ کار کو ہو بہو تلاش کرنا درست نہیں۔
3-عصر کے بعد جب تک سورج متغیر نہ ہوا ہو، سجدۂ تلاوت کرنا جائز ہے اور اس کے بعد عین غروب تک ممنوع ہے۔
كما في الهندية: ]الفصل الثالث في بيان الأوقات التي لا تجوز فيها الصلاة وتكره فيها[: ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة (إلى قوله) أما لو وجبتا في هذا الوقت وأديتا فيه جاز؛ لأنها أديت ناقصة كما وجبت. كذا في السراج الوهاج وهكذا في الكافي والتبيين لكن الأفضل في سجدة التلاوة تأخيرها ۔ اھ (1/52)
وفيه أیضاً: تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة.كذا في
فتاوى قاضي خان. (إلى قوله) ومنها ما بعد صلاة العصر قبل التغير اھ (1/52)
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0