عام مشاہدے کی بات ہے کہ عمرے کے لیے جانے والے کئی لوگوں کی جوتیاں مسجد حرام میں گم ہو جاتی ہیں یا کبھی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں یا کبھی انتظامیہ کےلوگ اٹھا کر جوتیوں کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں ان ڈھیروں پر سینکڑوں جوتیاں ( قیمتی اور عام قسم کی) پڑی ہوئی ہوتی ہیں، جن لوگوں کی جوتیاں گم ہو جاتی ہیں وہ لوگ عام طور پر اپنی جوتی گمنے کے بعد جوتیوں کے اس ڈھیر پر جا کر سینکڑوں جوتیوں میں سے اپنی ضرورت کے مطابق جوتیاں لے جاتے ہیں اسی طرح میری جوتی بھی گم ہوگئی انتظامیہ نے اٹھائی یا کسی اور نے، و اللہ اعلم میں نے بھی اس ڈھیر پر جاکر اپنی ضرورت کی جوتی لے لی اب اس عام ڈھیر پر سے جوتی اٹھا کر پہننا جائز ہے یا نا جائز؟ کیونکہ یہ جوتیاں تو لوگوں کی گمشدہ ہوتی ہیں اور عام طور پر لوگ ان جوتیوں کو چھوڑ کر جا چکے ہوتے ہیں اسی طرح رائے ونڈ مرکز میں ہوتا ہے یا عام طور پر عام مساجد میں سب لوگوں کے جانے کے بعد بھی بعض جوتیاں زائد پڑی ہوئی ہوتی ہیں اور اگر کسی آدمی کی جوتی نہیں گمی پھر بھی وہ اس ڈھیر سے آکر جوتی اٹھا لے تو جائز ہے یانہیں ؟ اور اگر کوئی آدمی ایک کی بجائے زیادہ جوتیاں اٹھا لے پھر کیا شرعی حکم ہے؟
ایسی صورت میں بھی صرف ذاتی جوتے اٹھا کر استعمال کرنا جائز ہے دوسرے کی نہیں۔ ہاں اگر ان اجتماعی جوتوں کے مالکان اس تک نہ آتے ہوں اور حکومت یا ادارہ کی طرف سے ان کو تلف کردیا جاتا ہو تو فقیر ہونے کی وجہ سے ان جوتوں میں سے لینے کی گنجائش ہے۔
کما فی ردالمختار: (قوله فبعد إعطاء الخمس لا تبقى شبهة) قد علم مما قدمناه ( الی قولہ) قلت: أي؛ لأنه إذا حصل اليأس من معرفة مستحقها من الغانمين صارت بمنزلة اللقطة واللقطة من مصارف بيت المال، لكن إذا كان المشتري فقيرا له تملكها. [مطلب فيمن له حق في بيت المال وظفر بشيء من بيت المال] ونقل في القنية عن الإمام الوبري أن من له حظ في بيت المال وظفر بمال وجه لبيت المال فله أن يأخذه ديانة اهـ (4/158و159)
و فی الدر المختار: ( فینتفع) الرافع ( بھا لو فقیراً وإلا تصدق بھا علی فقیر و لو علی أصلہ و فرعہ و عرسہ اھـ (۴/۲۶۹)۔
فی العنایۃ:( قولہ و ھو واجب إذا خاف الضیاع علی ما قالو واللہ اعلم باالصواب
جس دکان میں گانے، فلمیں وغیرہ ڈاؤن ہوتی ہوں اس کا نام ’’مدینہ موبائل کمیونکیشن‘‘ رکھنا
یونیکوڈ آداب حرمین 0