السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ زید مدرسہ کے مکمل خرچ پر مدرسہ کی خاطر چندہ کی غرض سے جاتا ہے اور اس کو وہاں تحفہ وتحائف جو ملتے ہیں وہ مدرسہ کی ملکیت ہوں گے یا زید ہی کو ان تحائف پر پورا حق ہے۔ براہِ کرم شریعت محمدی کے مطابق حکمِ شرعی صادر فرمائیں۔ کرم ہوگا۔
زید کی چندہ دہندگان سے اگر پہلے سے دوستی اور ذاتی واقفیت نہ ہو، یا جو کچھ دیا جا رہا ہے وہ ذاتی استعمال کے لیے یا اس کی صراحت کے بغیر ہوتو چندہ دہندگان کی طرف سے عطا کردہ تحائف مدرسہ کی امداد ہے، اس کو مصارف مدرسہ میں صرف کرنا لازم ہے۔
ففی سنن أبي داود: عن أبي حميد الساعدي، أن النبي صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا من الأزد يقال له ابن اللتبية - قال ابن السرح: ابن الأتبية - على الصدقة فجاء، فقال: هذا لكم وهذا أهدي لي، فقام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر فحمد الله وأثنى عليه، وقال: «ما بال العامل نبعثه فيجيء فيقول هذا لكم وهذا أهدي لي، ألا جلس في بيت أمه أو أبيه فينظر أيهدى له أم لا؟ لا يأتي أحد منكم بشيء من ذلك إلا جاء به يوم القيامة، إن كان بعيرا فله رغاء، أو بقرة فلها خوار، أو شاة تيعر» اھ (3/ 134) واللہ اعلم بالصواب