اگر کوئی شخص کسی بڑے تاجر کے پاس اپنی رقم مثلاً دو لاکھ رکھوائے ،پھر وہ تاجر اس شخص کو ہر مہینے مخصوص راشن دے،آٹے کی بوری یا چاول کی بوری اس طور پر کہ رکھوائی گئی رقم بر قرار رہے کہ جب بھی وہ لینا چاہیے گا پوری دو لاکھ لیگا؟ آیا کہ ایسا معاملہ کرنا درست ہے کہ نہیں؟
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور دو لاکھ روپے بطور قرض رکھوائے گئے ہیں یا بطور مضاربت وشرکت ؟تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر بطور قرض دو لاکھ روپے رکھوائے گئے ہیں، تو سوال میں ذکر کردہ معاملہ کی صورت صراحتاً سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم البتہ اگر مضاربت وشرکت کی صورت ہو اور ماہانہ راشن اس کے منافع میں سے دیا جاتا ہو اور بوقت حساب شخص مذکور کے لئے طے شدہ منافع سے اسے منہا کیا جاتا ہو تو یہ صورت اگر چہ جائز اور درست ہے، مگر شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے معاہدہ کی تفصیل ضروری ہے۔
کما فی التنویر الابصار: ھی عقد شركة في الربح بمال من جانب وعمل من جانب وركنها الإيجاب والقبول الخ ( 5/645)۔
و فی الھدایۃ: و من شرطھا ان یکون الربح بینھما مشاعاً لایستحق احدھما دراھم مسماۃ من الربح لان شرط ذلک یقطع الشرکۃ بینھما ولابد منھما کما فی عقد الشرکۃ الخ (3/258)۔
و فی الرد المختار: تحت [مطلب كل قرض جر نفعا حرام] (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا(الی قولہ) وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لابأس به ويأتي تمامه الخ (5/66)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1