میرے انکل کا ایک بیٹا ہے،انکل اور اس کے بیٹے میں لڑائی ہوئی،انکل اپنی پراپرٹی مسجد کے نام کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ پراپرٹی مسجد کے نام رہی اور اس کی آمدنی اپنی زندگی تک خود لیتا رہا اور فوت ہونے کے بعد یہ مسجد کے نام ہے،اس لئے مسجد کو ملتی رہی،کیا وہ اپنے بیٹے کا حق اس طرح مسجد کے نام کرسکتا ہے؟اور مسجد کے نام کی پراپرٹی کی آمدنی اپنی زندگی تک خود لے سکتا ہے؟
واضح ہوکہ سائل کے انکل اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے تمام مال وجائیداد کا تنہا مالک ہے،وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرسکتا ہے،اس کی اولاد کا اس کی زندگی میں جائیداد میں حصہ داری کا مطالبہ کرنا درست نہیں،لہذا سائل کا انکل اگر اپنی پراپرٹی مسجد کے لئے وقف کرنا چاہے اور جب تک وہ زندہ رہے،تب تک اس کی آمدنی اپنے لئے مختص کرے تو شرعاً ایسا کرنا جائز اور درست ہے،البتہ اس میں خالص اللہ کی رضامندی کی نیت ہونی چاہیئے،اگر ورثاء کو محروم کرنے کی غرض سے ایسا کیا جائے تو ثواب سے محرومی ہوگی۔
کمافی الدرالمختار: (وعندهما هو حبسها على)حكم (ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى ابن الكمال وابن الشحنة اھ(4/338)۔
وفی الفتاوی الھندیة: في الذخيرة إذا وقف أرضا أو شيئا آخر وشرط الكل لنفسه أو شرط البعض لنفسه ما دام حيا وبعده للفقراءقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: الوقف صحيح ومشايخ بلخ رحمهم الله تعالى أخذوا بقول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى ترغيبا للناس في الوقف وهكذا في الصغرى والنصاب، كذا في المضمرات اھ(2/398)۔