کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا مالٹے اور لیموں کا باغ ہے، ایک بندہ آکر کہتا ہے کہ اس باغ میں لیموں کے پودوں کو سات (۷) سال کے لئے مجھ پر فروخت کر دو، قیمت میں آپ کو چھ لاکھ روپیہ بھی دونگا، باغ کی نگہداشت بھی کرونگا ،اور مزید لیموں کے پودے بھی لگاؤنگا، ( جن کی تعداد معلوم نہیں )،تو کیا قرآن وحدیث کی رو سے اس طرح کے خرید و فروخت کی اجازت ہے؟ اگر اس طرح کی اجازت نہیں ،تو سات سال کے لئے فروخت کرنے کی جائز صورت کیا ہو گی؟ شریعت کی رو سے مدلل جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
واضح ہو کہ خرید و فروخت میں شرعاً تحدید (یعنی ایک محدود مدت تک کیلئے ہونے) کا تصور نہیں، لہذا سائل کیلئے سات سال تک درختوں کو فروخت کرنا درست نہیں ، البتہ اس کی جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ سائل سات سال تک درختوں کی فروخت کا معاملہ نہ کرے، بلکہ جب درختوں پر پھل آئے، تو خریدار کے ساتھ اس سال کیلئے عقد کرے ،جو کہ پھل کاٹنے پر ختم ہو گا، اور اسی طرح ہر سال درختوں پر پھل آنے کے بعد نیا معاملہ کرے تو شرعاً اس طرح کرنا جائز ہو گا۔
كما في مرقاة المفاتيح: (عن جابر قال: «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن المحاقلة والمزابنة والمخابرة» ) وقد سبق معانيها (والمعاومة) وفي نسخة: وعن المعاومة وهي مفاعلة من العام كالمسانهة من السنة والمشاهرة من الشهر في النهاية هي بيع ثمر النخل أو الشجر سنتين أو ثلاثا فصاعدا قبل أن تظهر ثماره وهذا البيع باطل لأنه بيع ما لم يخلق فهو كبيع الولد قبل أن يخلق. يقال: عاومت النخلة إذا حملت سنة ولم تحمل أخرى وهي مفاعلة من العام بمعنى السنة اھ(5/ 1928)۔
وفي شرح النووي على مسلم: وأما النهى عن بيع المعاومة وهو بيع السنين فمعناه أن يبيع ثمر الشجرة عامين أو ثلاثة أو أكثر فيسمى بيع المعاومة وبيع السنين وهو باطل بالإجماع نقل الإجماع فيه بن المنذر وغيره لهذه الأحاديث ولأنه بيع غرر لأنه بيع معدوم ومجهول غير مقدور على تسليمه وغير مملوك للعاقد والله أعلم اھ(10/ 193)۔
وفي الدر المختار: (ومن باع ثمرة بارزة) أما قبل الظهور فلا يصح اتفاقا. (ظهر صلاحها أو لا صح) في الأصح. (ولو برز بعضها دون بعض لا) يصح. (في ظاهر المذهب) وصححه السرخسي وأفتى الحلواني بالجواز اھ (4/ 555)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت: (قوله: ظهر صلاحها أو لا) (إلی قوله) وعندنا إن كان بحال لا ينتفع به في الأكل، ولا في علف الدواب فيه خلاف بين المشايخ قيل: لا يجوز ونسبه قاضي خان لعامة مشايخنا، والصحيح أنه يجوز؛ لأنه مال منتفع به في ثاني الحال إن لم يكن منتفعا به في الحال، والحيلة في جوازه باتفاق المشايخ أن يبيع الكمثرى أول ما تخرج مع أوراق الشجر فيجوز فيها تبعا للأوراق كأنه ورق كله، وإن كان بحيث ينتفع به ولو علفا للدواب فالبيع جائز باتفاق أهل المذهب إذا باع بشرط القطع أو مطلقا. اهـ (4/ 555)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1