مسئلہ : جناب ہمارا کوئلے کا کاروبار ہے، اور ہم افغانستان سے کوئلہ برآمد کرتے ہیں، پھر اس کوئلے کی گریڈنگ اور پاوڈر شامل ہیں، 10,10/20/10/25/کرتے ہیں اسے مختلف سائز میں تقسیم کرتے ہیں جس میں مختلف سائز :
ان سائر میں 5/10,10/20/10/25ہم فیصل آباد، لاہور اور گجرانوالہ بھجواتے ہیں، جبکہ پاؤڈر ہم سیمنٹ فیکٹریوں ( عسکری سینٹ، بیسٹ وے سیمنٹ، فوجی سیمنٹ) کو بھجواتے ہیں، پہلے ہم ان کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں ، کہ ہم آپ کو افغان کوئلہ دینگے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ جو کوئلہ ہم سیمنٹ فیکٹریوں کو دیتے ہیں، ان کی وہی قیمت نہیں ہوتی، جس قیمت پر ہمیں کوئلے کی پہنچ ہوئی ہے یعنی ہمیں کافی نقصان ہو رہا ہے، یہ سب باتیں سیمنٹ فیکٹروں والوں کو معلوم ہیں، لیکن مارکیٹ میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں، کہ وہ سیمنٹ فیکٹری والوں کو اس ریٹ پر مال دیتے ہیں۔ جو سیمنٹ فیکٹریاں ڈیمانڈ کرتی ہیں ، اصل میں یہ لوگ افغان کوئلہ میں لوکل کوئلہ مکس کرتے ہیں، تاکہ اپنا نقصان پورا کر سکیں، اس مقصد کے لیے یہ لوگ لیبارٹری کے لوگوں کو رشوت دے کر اپنا ٹیسٹ پاس کروالیتے ہیں، اور فیکٹری والے ہر گاڑی کے ہمیں اس کی لیب رپورٹ کے مطابق پینٹ کرتے ہیں، کیا میں لیبارٹری والے کو رقم دے سکتا ہوں کہ وہ میرے کوئلہ کی اصل خاصیت آگے بھیج دے یعنی فیکٹری مالکان کو ، اگر میں انہیں رقم ادا کروں تو وہ کوئلہ کی غلط / کم ترین رپورٹ بنا کر آگے پیش کر دیتے ہیں، مارکیٹ میں میرے سمیت کچھ ایک ایسے لوگ ہیں جو فیکٹریوں کو خالص کوئلہ دیتے ہیں، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی افغان کوئلہ میں لوکل کوئلہ ڈال کر اپنا نقصان پورا کر سکتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو نقصان پہلے ہمیں ہو رہا تھا،وہ قابل برداشت تھا، اب یہ نقصان ناقابل برداشت ہو گیا ہے، میں اس کاروبار کو جاری بھی رکھنا چاہتا ہوں، اور میری کافی رقم بند ہے، میں نے کافی سرمایہ کاری کی ہے، اور حکومت پاکستان کے قانون کے مطابق پورا ٹیکس آج تک ادا کرتا آرہا ہوں، براہ کرم مہربانی فرما کر اس مسئلے کا کوئی شرعی حل بتا دیں، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
تنقیح: کرنے پر سائل نے بتلایا کہ ہم اصل کوئلہ خریدتے ہیں پھر سیمنٹ فیکٹری پر بیچنے سے پہلے لیبارٹری سے کوئلہ کا ٹیسٹ کرتے ہیں اب اگر ہم لیبارٹری والے کو مقررہ رقم کے علاوہ رشوت کے طور پر مزید رقم نہ دیں تو لیبارٹری والے غلط رپورٹ بنا کر آگے پیش کرتے ہیں اور رپورٹ میں یہ بتلاتے ہیں کہ اصل کوئلہ کے ساتھ لوکل کوئلہ بھی مکس ہے، جس کی وجہ سے ہمارے کوئلہ کا ریٹ بہت کم ہو جاتا ہے اور ہمیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے ، اب آیا کہ لیبارٹری کو رشوت کے طور پر مزید رقم دینا جائز ہے یا ناجائز ؟ تاکہ وہ صحیح رپورٹ دے۔
صورت مسئولہ میں اصل کوئلہ میں غیر معیاری کوئلہ ملا کر اسے اصل کوئلہ ظاہر کر کے فروخت کرنا جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز اور حرام ہے، جس سے سائل کو احتراز لازم ہے، جبکہ لیبارٹری والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصل کوئلہ کو اصل ہی ظاہر کریں، اور اس کے لیے جو مقررہ فیس ہے وہی وصول کریں ، لیبارٹری والوں کا اپنے مذکور خدمات کے لیے مزید رقم کا مطالبہ کرنا اور اور رقم نہ دینے کی صورت میں متعلقہ کوئلہ کے معیار کو کم ظاہر کرنا اپنے پیشہ کے ساتھ خیانت اور ظلم ہے جو شرعاً بھی ناجائز اور حرام ہے ، اگر لیبارٹری والے اپنے اس عمل سے باز نہیں آتے تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے، تاہم سائل کو اگر لیبارٹری کے غلط رپورٹ سے بچنے اور اپنا حق وصول کرنے کی غرض سے مجبوراً ان کو رشوت دینا پڑتا ہو تو اس کی گنجائش ہے البتہ لیبارٹری والوں کے لیے یہ رقم لینا بہر حال حرام اور نا جائز ہے ۔
كما فى الفتاوى الهندية: إذا دفع الرشوة لدفع الجور عن نفسه أو أحد من أهل بيته لم يأثم اھ (4/ 403)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): [مطلب في الكلام على الرشوة والهدية] (قوله: أخذ القضاء برشوة) (إلی قوله) و في الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: (إلی قوله) الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط (إلی قوله) الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب اھ (5/ 362)
و في صحيح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني» اھ (1/ 99)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1