السلام علیکم! جنازہ کی نماز میں اکثر ہمارے ہاں لوگ جب امام سلام کہنا شروع کرتا ہے تو دونوں ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں یا کچھ لوگ پہلے سلام پر ایک ہاتھ اور دوسرے سلام پر دوسرا ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں، جہاں تک میرا خیال ہے سلام کے بغیر ہاتھ چھوڑ دینے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
سلام سے قبل ہاتھ چھوڑنے سے نماز نہیں ٹوٹتی ، بلکہ صحیح طریقہ یہی ہے کہ چوتھی تکبیر کے بعد دونوں ہاتھ چھوڑ کر سلام پھیرا جائے ، تاہم اگر کوئی پہلے سلام پر دایاں ہاتھ اور دوسرے سلام پر بایاں ہاتھ چھوڑ دے یا دونوں ہاتھ باندھنے کی حالت میں دونوں طرف سلام پھیرے جیسا کہ مروج ہے، اس کی بھی گنجائش ہے۔
فی الدر المختار : (و وضع) الرجل (يمينه على يساره تحت سرته آخذا رسغها بخنصره و إبهامه) هو المختار ، (إلی قوله) (و هو سنة قيام) (إلی قوله) (له قرار فيه ذكر مسنون فيضع حالة الثناء ، و في القنوت و تكبيرات الجنازة لا) اھ (1/ 487)۔
و فی الفتاوى الهندية : و كل قيام ليس فيه ذكر مسنون كما في تكبيرات العيدين فالسنة فيه الإرسال . كذا في النهاية و هو الصحيح . كذا في الهداية اھ (1/ 73)۔
و فی الخلاصة : و لا یعقد بعد التکبیر الرابع ، لأنه لا یبقی ذکر مسنون حتی یعقد ، فالصحیح أنه یحل الیدین ثم یسلم تسلیمتین اھ (۱/ ۲۲۵)۔