مفتی صاحب ایک دوست کی بہن کی بچپن میں منگنی کر دی گئی اور اب جب وہ لڑکی بالغ ہوئی ہے تو وہ اس سے انکار کر رہی ہے جب کہ گھر کے باقی لوگ ماسواایک بھائی کے سب اس رشتہ کرنے پر راضی ہیں اور اسی طرح جن کے گھر رشتہ ہوا ہے وہ بھی راضی ہیں لڑکی نےاپنے ایک بھائی کوا عتمادمیں لیتے ہوے کہا کہ کوئی بھی نہیں مانتا اب آپ ہی کچھ کرو , سولڑکی کے اس بھائی نے جن کے گھر رشتہ ہوناہےانکے والد صاحب کو کال کرکے کہا کہ اگرکسی نے بھی میری بہن کی شادی آپ کے لڑکے کے ساتھ کی تو میری بیوی کو ایک طلاق ہو گی اور کال کاٹ دی اوراسی طرح اس لڑکے والے خاندان کے دوسرے فرد کو کال کر کے کہا کہ اگر کسی نے ایسا کیا تو میری بیوی پر تین طلاقیں ہوں گی ؟ اب وہ لڑکی کا بھائی اس بات پر بہت شرمندہ ہے اور معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اگر لڑکی کو کسی طرح سے منا کر شادی کے لئے راضی کر لیا جائے تو نکاح کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اس کی اپنی طلاق بھی واقع نہ ہو ؟
مذکور لڑکی کے بھائی کا منگیتر کے والد کو کال کر کے اولاْ مذکور جملہ "اگر کسی نے بھی میری بہن کی شادی آپ کے لڑکے کے ساتھ کی تو میری بیوی کو ایک طلاق" اور اس کے بعد خاندان کے دیگر افراد کو فون کر کے یہ جملہ کہا کہ " اگر کسی نے ایسا الخ " تو اس سے مجموعی طور پر تین طلاق معلق ہو چکی ہیں ، اب مذکور بھائی کی بہن کی شادی منگیتر سے کرنے کی صورت میں اس بھائی کی بیوی پر معلق تین طلاق واقع ہو کر حرمت ِمغلطہ ثابت ہو جائیگی تاہم مذکور بھائی تین طلاقوں سے بھی بچنا چاہتا ہو اور اپنی بہن کا نکاح اس کے منگیتر سے بھی کرنا چاہتا ہو تو اس کی تدبیر یہ ہو سکتی ہے کہ مذکور بھائی اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن د یدے ، عدت کے دوران بہن کا نکاح اس کے منگیتر سے ہر گز نہ کرے، جب عدت گزر جائے تو بہن کا نکاح اس لڑکے کر دیا جائے اس سے شرط پوری ہو جائیگی اور اس وقت نکاح نہ ہونے کی وجہ سے معلق تین طلاقیں بھی واقع نہ ہوں گی ، چنانچہ عدت کے بعد باہمی رضامندی سےتجدیدِ نکاح کر کے دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، البتہ شوہر کو آئندہ کے لئے دو طلاقوں کا اختیار رہے گا جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دے دیگا تو اس کی بیوی ،اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائیگی۔
كما في الهندية : و اذا اضافه الى الشرط وقع عقيب الشرط اھ (420/1).
و فيها ايضا : وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدة أو ثنتين لا يبطلها فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء (1/416)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0