کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک شخص نے دوکنال زمین مسجد اور مدرسہ کے لئے وقف کی ہے،مسجد اور مدرسہ کے لئے الگ الگ نشاندہی بھی کردی ہے،البتہ بیرونی دیوار ایک ہی ہے،اب وہ چاہتا ہے کہ جو زمین مدرسہ کے لئے وقف کی گئی ہے،اس میں سے کچھ جگہ بیچ کر مسجد کی تعمیر پر لگاؤں،کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا؟بیان فرما دیں۔
شخصِ مذکور نے اپنی زمین کا جو حصہ علیحدہ طور پر مدرسہ کے لئے وقف کرکے اپنی ملکیت سے الگ کردیا تھا تو شرعاً یہ وقف درست منعقد ہوچکا ہے، اب مسجد کی غرض سے مدرسہ کے لئے وقف شدہ زمین میں سے کسی حصہ کو فروخت کرنا جائز نہیں،بلکہ اس کے لئے کوئی اور بندوبست کرنا چاہیئے۔
کمافی الدر المختار:(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) الخ
وفی الشامیة: تحت(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر اھ(4/351)۔
وفی الشامیة:(قوله: إن اختلفت جهة وقفهما) ولو وقف نصف أرضه على جهة معينة، وجعل الولاية عليه لزيد في حياته وبعد مماته، ثم وقف النصف الآخر على تلك الجهة أو غيرها (الیٰ قوله) لما وقف كل نصف على حدة صارا وقفين اھ(4/355)۔