میرے دو سوالات ہیں:
پہلا یہ کہ میری تنخواہ دبئی اسلامی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں آتی ہے، یہ میرے لئے حلال ہے یا حرام ؟
دوسرا میرا سوال یہ ہے کہ میں دبئی اسلامک بینک میں اپلائی کر رہا ہوں قرض کے لئے، تاکہ میں پاکستان میں گھر خرید سکوں، یہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟
مذکور بینک میں انجام دیے جانے والے معاملات اگر مکمل طور پر مستند شرعی ایڈوائیزر کی نگرانی میں انجام پاتے ہوں تو مذکور بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں سیلری رکھنا، اور اس سے جو نفع حاصل ہو اس کو استعمال کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
۲۔ ہماری معلومات کے مطابق اسلامی بینک قرض کا معاملہ نہیں کرتا، البتہ اگر وہ اس طرح معاملہ کرے کہ بینک مطلوبہ مکان کا باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کر لے، اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعے قسطوں پر بیچ دے ،اور اس طرح قسطوں کے معاملہ میں ابتداء ہی میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی، اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی، اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی اضافی چارجز بھی وصول نہ کیے جاتے ہوں ،تو اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہوگا، چنانچہ اس طریقے کے مطابق سائل مذکور بینک کے توسط سے مکان خرید سکتا ہےْ۔
ففی فقه البیوع: وکما یجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعة واحدة، کذلك یجوز أن یکون أداء الثمن بأقساط، بشرط أن تکون آجال الأقساط ومبالغھا معینة عند العقد، وقد یسمی ’’البیع بالتقسیط‘‘ وھو نوع من البیع المؤجل اھ (۱/ ۵۳۹) -