السلام علیکم استادِ محترم !
مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ ہمارے گاؤں میں ایک مسجد کافی پرانی بنائی گئی تھی، تو اس کے کمرے کی چھت گر گئی تھی اور دوسری مسجد بھی تھوڑے سے فاصلے پر بنائی ہے،گاؤں والے اس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں،اب جو پرانی مسجد تھی،اس کے سامان کو نکال کر گاؤں والوں نے خرید لیا،اس کے قالین اور گاڈر،ٹیارن وغیرہ،اب جو پیسے اس پرانی مسجد کے خریدے ہوئے سامان پر آئے ہیں،ان پیسوں پر نئی مسجد کے لئے پنکھے اور برآمدہ بنا سکتے ہیں؟مطلب وہ پیسے جو پرانی مسجد کے بیچے ہوئے سامان پر آئیں ہیں،ان پیسوں سے نئی مسجد کیلئے قالین وغیرہ اس نئی مسجد کے لئے جتنی بھی چیزیں ہوں چاہے وہ تعمیر میں وسعت کی ہوں،یا اس نئی مسجد کی ضروریات ہوں تو وہ پیسےاس نئی مسجد کے لئے استعمال کرسکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جو مسجد ازخود گر کر شہید ہوگئی ہے،اول تو اسی مسجد کی ازسرِ نو تعمیر کرکے اس کو آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے،تاہم اگر گاؤں والوں نے کسی وجہ سے دوسری جگہ مسجد بنائی ہو اور پرانی مسجد کی تعمیر بھی مقصود نہ ہو اور لوگوں نے اس مسجد سے نکلنے والی اشیاء کو خرید لیا ہو،تو اس صورت میں حاصل ہونے والی رقم کو نئی مسجد کی تعمیر یا مسجد کی دوسری ضروریات وغیرہ میں خرچ کرنا جائز ہے،مگر یہ یاد رہے کہ پرانی مسجد کی جگہ کو کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال کرنا درست نہیں،اس کو بطورِ مسجد باقی رکھ کر گاؤں کے کچھ لوگ اس میں نماز پڑھیں اور کچھ نئی مسجد میں نماز پڑھیں،اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس جگہ کی چار دیواری کرکے اس کو محفوظ کیا جائے،تاکہ اس کی بے حرمتی نہ ہو۔
کمافی الدر المختار: (ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي (وعاد إلى الملك) أي ملك الباني أو ورثته (عند محمد) وعن الثاني ينقل إلى مسجد آخر بإذن القاضي الخ اھ(4/357)۔
وفی الشامیة: مطلب في نقل أنقاض المسجد ونحوه قلت: لكن الفرق غير ظاهر فليتأمل والذي ينبغي متابعة المشايخ المذكورين في جواز النقل بلا فرق بين مسجد أو حوض، كما أفتى به الإمام أبو شجاع والإمام الحلواني وكفى بهما قدوة، ولا سيما في زماننا فإن المسجد أو غيره من رباط أو حوض إذا لم ينقل يأخذ أنقاضه اللصوص والمتغلبون كما هو مشاهد وكذلك أوقافه يأكلها النظار أو غيرهم، ويلزم من عدم النقل خراب المسجد الآخر المحتاج إلى النقل إليه، وقد وقعت حادثة سئلت عنها في أمير أراد أن ينقل بعض أحجار مسجد خراب في سفح قاسيون بدمشق ليبلط بها صحن الجامع الأموي فأفتيت بعدم الجواز متابعة للشرنبلالي، ثم بلغني أن بعض المتغلبين أخذ تلك الأحجار لنفسه، فندمت على ما أفتيت به، ثم رأيت الآن في الذخيرة قال وفي فتاوى النسفي: سئل شيخ الإسلام عن أهل قرية رحلوا وتداعى مسجدها إلى الخراب، وبعض المتغلبة يستولون على خشبه، وينقلونه إلى دورهم هل لواحد من أهل المحلة أن يبيع الخشب بأمر القاضي، ويمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد أو إلى هذا المسجد؟قال: نعم اھ(4/360)۔
وفی البحر الرائق: ولم يذكر المصنف حكم المسجد بعد خرابه وقد اختلف فيه الشيخان فقال محمد إذا خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر أو لخراب القرية أو لم يخرب لكن خربت القرية بنقل أهلها واستغنوا عنه فإنه يعود إلى ملك الواقف أو ورثته.وقال أبو يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى كذا في الحاوي القدسي وفي المجتبى وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه قال وأما الحصر والقناديل فالصحيح من مذهب أبي يوسف أنه لا يعود إلى ملك متخذه بل يحول إلى مسجد آخر أو يبيعه قيم المسجد للمسجد اھ(5/272)۔