آج کل پاسپورٹ پر ایک کاروبار شروع ہے، جس کا طریقہ کار میرے معلومات کے مطابق کچھ یوں ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی باہر ملک ( امارات) سے پاکستان چھٹی پر آنا چاہتا ہے، تو جو لوگ پاسپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں، تو یہی لوگ اس کے نام پر باہر ملک میں اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں ،اور اس میں پیسہ ڈال لیتے ہیں ،(اس لئے کہ جب گاڑی اس کے پاسپورٹ پر منگواتے ہیں، تو اس کے اکاؤنٹ سے پیسہ کٹ جاتا ہے) جب یہ پاکستان پہنچ جاتا ہے، تو یہی ایجنٹ لوگ پاسپورٹ والے سے پاسپورٹ وصول کر کے اسی پاسپورٹ کو کراچی بھیج دیتے ہیں، وہاں پر اسی پاسپورٹ کو سکین کر کے واپس کر دیتے ہیں ،اور کہتے ہیں کہ اس کے ذریعے سے جاپان سے گاڑی منگوائی جاتی ہیں ،(چونکہ اس کے ذریعے سے جو گاڑی حاصل کی جاتی ہے، وہ عام ریٹ سے سستی مل جاتی ہیں) اور پاسپورٹ کے مالک کو کچھ رقم (مثلا 60 یا 80 ہزار روپے دے دیتے ہیں ،تو کیا پاسپورٹ کے مالک کو یہ پیسہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو جو پیسہ اس نے وصول کیا ہے، اس کا کیا حکم ہوگا؟اور اسی طریقے سے ایجنٹ لوگ اور اصل کاروبار والے لوگوں کے پیسوں کا کیا حکم ہیں؟ مدلّل جواب عنایت فرمائیں۔
سوال میں مذکور پاسپورٹ کا مالک چونکہ ایجنٹ اور اصل کاروبار کرنے والوں کو اپنے پاسپورٹ سکین کرنے اور اس کے نام پر اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دینے پر اجرت لیتا ہے ، جو کہ فقہی اعتبار درست نہیں ، جبکہ اصولی طور پر خرید و فروخت کے معاملہ میں فروخت شدہ چیز کا مادی یا اس کے حکم میں ہونا ضروری ہے ، جو کہ صورتِ مسئولہ میں مفقود ہے ، اس لئے سوال میں مذکور طریقہ سے اپنا پاسپورٹ استعمال ہونے پر اس کی قیمت وصول کر ناشر عاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ پاسپورٹ مالک نے اس طریقہ سے اب تک جتنی رقم حاصل کی ہے، اس کا استعمال کرنا اس کیلئے درست نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ اس رقم کو اس کے اصل مالکان کو واپس لوٹائے ، اور اگر اصل مالکان تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو فقراء پر بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرے، جبکہ مذکور کاروبار میں خلافِ شرع کوئی اور بات نہ پائی جاتی ہو، تو ایجنٹ اور اصل کاروبار کرنے والوں کا کاروبار کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا نفع لینا شر عاً جائز اور درست ہے۔
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (وأما) ركن البيع: فهو مبادلة شيء مرغوب بشيء مرغوب، وذلك قد يكون بالقول، وقد يكون بالفعل اھ (۵/۱۳۳ بیان ركن البيع)۔
في فقه البيوع للمفتى تقي العثماني: ويرى الحنفية أن الركن في البيع وغيره هو مبادلة شيئ مرغوب بشيئ مرغوب اھ (۱/۲۸ ركن البيع) ۔
وفيه أيضا: ثم الحنفية ون اشترطوا الجواز له بيع أن يكوم المبيع عينا، وصرحوا بأن بيع الحقوق المجردة لا يجوز ، ولكنهم استثنوا من ذلك بعض الحقوق التي تتعلق بعين، مثل حق المرور فى القول المفتى به ، ويظهر من مراجعة كلام الحنفية في مسائل مختلفة أن عدم جواز بيع الحقوق ليس على عمومه اھ (۱/۲۶۴ أحكام بيع الحقوق) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1