کچھ لوگ پلاٹ قسطوں پر لیتے ہیں، پھر ایک دو سال کے بعد منافع حاصل کرنے کے لیے بیچ دیتے ہیں اور اس کے بعد دوسری جائیداد خرید لیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے ؟
میں ایک پلاٹ مہینہ وار قسطوں پر خریدنا چاہتا ہوں،کیونکہ فی الحال میرے پاس اضافی روپیہ ہیں، شاید ایک سال کے بعد میں منافع حاصل کرنے کے لیے بیچ دوں یا قسطوں کو مکمل کرنے کے بعد کرایہ پر دوں، کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟
قسطوں پر پلاٹوں کی خرید و فروخت جائز ہے، بشرطیکہ کہ مجلس ِعقد میں ہی طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار قسطوں پر ہوگا، قسطوں کی ادائیگی کا وقت اور ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے، نیز کسی قسط کی تاخیر پر کوئی اضافی رقم بھی وصول نہ کی جائے، چنانچہ مذکور شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے پلاٹ خریدنا اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد منافع حاصل کرنے کے لیے آگے فروخت کرنا شرعا جائز اور درست ہے۔
جبکہ مذکور پلاٹ اگر سائل نے فروخت کرنے کی حتمی نیت سے نہ خریدا ہو،بلکہ یہ نیت ہو کہ یا تو اس میں مکان تعمیر کر کے کرایہ پر دے دونگا یا اگر اچھی قیمت ملنے کی امید ہو تو اُسے فروخت کر دونگا تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ اس پلاٹ کی زکوۃ لازم نہیں ۔
كما في فقه البيوع : وكما يجوز ضرب الاجل الاداء الثمن دفعة واحدة كذلك يجوز ان يكون اداء الثمن بأقساط، بشرط أن تكون آجال الاقساط و مبالغها معينة عند العقد وقد يسمى البيع بالتقسيط و هو نوع من البيع الموجل. والاقساط قد تسمى نجوما اھ (۱/ ۵۳۹)۔
و في الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار، حتى لو كان علوا أو على شط نهر ونحوه كان كمنقول اھ (5/ 147)۔
و في الدر المختار: والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثنى اھ (2/ 273)۔
وايضا في الدر المختار: ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه اھ (2/ 274) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1