میرے ایک جاننے والے نے مجھے ایک سوسائٹی میں اپنے لئے پلاٹ لینے کا کہا کیوں کہ میں پراپرٹی کا چھوٹا موٹا کام کرتا ہوں، وہ پلاٹ میں نے ایک پراپرٹی والے سے 2 لاکھ ساٹھ ہزار میں لیا، اور آگے ان کو 2 لاکھ 90 ہزار میں دے دیا، پیسے اس میرے جاننے والے بندے نے ہی ادا کیے، لینے سے پہلے اس کو بتایا کہ پلاٹ 2 لاکھ 90 ہزار میں مل رہا ہے، جب اس نے او کے کیا تو پھر میں نے سودا کر وایا، اس کو وہی پلاٹ 3 لاکھ 10 ہزار میں مل رہا تھا، اس لئے اس نے خوشی سے 2.90 میں لے لیا،اب میرا اس سے 30 ہزار کمانا کیا جائز اور حلال ہے ؟ میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ یہ پلاٹ مجھے 2.50 میں ملا ہے،یہ میں نے جس ڈیلر سے لیا اس سے ڈیل کر کے 2.50 میں لیا۔ شکریہ
سائل اگر پراپرٹی ڈیلر کی حیثیت سے مشہور ہو، یا مشہور تو نہ ہو، لیکن سائل نے اپنے دوست کو اپنے کمیشن کے متعلق بتایا ہو تو ایسی صورت میں سائل کا اپنے دوست سے تیس ہزار کمیشن لے کر اس کو پلاٹ دلانا یا پھر پراپرٹی ڈیلر سے ڈھائی لاکھ روپے میں خود پلاٹ خرید کر اس پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے جاننے والے شخص کو مستقل عقد کے ساتھ دو لاکھ نوے ہزار روپے میں فروخت کیا ہو تو بھی ان صورتوں میں یہ اضافی منافع لینا سائل کے لئے جائز اور حلال ہے۔
كما في الهداية شرح البداية: كل عقد يضيفه الوكيل إلى نفسه كالبيع والإجارة فحقوقه تتلق بالوكيل دون الموكل اھ (3/ 137)۔
و في الفقه الحنفي وادلته : لانہ العاقد حقيقۃ والعقد يقوم بكلامه حكما اھ (۲/ ۱۲۸)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1