ایک آدمی نے مسجد کے لئے جگہ وقف کردی،تاہم وہ جگہ کم ہونے کی وجہ سے اس کے قریب سڑک کے دوسری جانب ایک بڑی جگہ دوسرے آدمی نے وقف کی اور اس میں مسجد بن گئی،اب مسجد کی تعمیر نو کی ضرورت ہے،اور موقوف شدہ پہلی جگہ بالکل خالی ہے،فی الحال یا آئندہ بھی اس کو مسجد میں شامل کرنے کی گنجائش نہیں،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس جگہ کو فروخت کرکے اس کی رقم مسجد کی تعمیر میں صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟واقف حیات ہے اور اس کی رائے بھی یہی ہے۔
مذکور وقف شدہ زمین کو اپنے حال پر رکھ کر مسجد کی ضروریات میں استعمال کرسکتے ہوں، تو اس طرح کیا جائے،تاہم موقوفہ زمین کو فروخت کرنا ہو اور اس کی قیمت کو دوسرے کسی کام میں استعمال کرنا ہو تو اس کے جواز میں فقہاء نے یہ شرط رکھی ہے کہ واقف بوقتِ وقف یہ شرط رکھے کہ بوقتِ ضرورت واقف یا کوئی متولی چاہے تو اس کو بیچ کر کسی دوسرے فلاحی کام میں صرف کرسکتا ہے،یا وہ موقوفہ چیز بالکل ناقابلِ انتفاع ہو، اس کے لئے بھی کئی شرائط مذکور ہیں،لہذا مذکور زمین کا ناقابلِ انتفاع ہونا تو فقط اس سے ثابت نہیں ہوتا،کہ سامنے دوسری مسجد بن گئی ہے، البتہ اس زمین کے متعلق اگر بوقتِ وقف واقف نے اسے بیچنے یا استبدال کی کوئی شرط رکھی ہو یا واقف نے یہ شرط نہ رکھی ہو،مگر قضاءِ قاضی ہو تو اس کو فروخت کرکے مذکور مسجد کی ضروریات میں صرف کرنا بھی درست ہے،ورنہ نہیں۔
کما فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(و) جاز (شرط الاستبدال به) أرضا أخرى حينئذ (أو) شرط (بيعه ويشتري بثمنه أرضا أخرى إذا شاء الخ
وفی الشامیة: قوله وجاز شرط الاستبدال:اعلم أن الاستبدال علی ثلاثة وجوہ:الاول: أن یشرطه الواقف لنفسه او لغیرہ او لنفسه وغیرہ،فالاستبدال فیه جائز علیٰ الصحیح وقیل اتفاقاً،والثانی أن لایشترط سواء شرط عدمه أو سکت لکن صار بحیث لاینتفع به بالکلیة بان لایحصل منه شیئ اصلا،أو لایفی بمؤنته فھو أیضا جائز علی الاصح إذا کان باذن القاضی ورأیه المصلحة فیه،والثالث: أن لایشرطه ایضاً ولکن فیه نفع فی الجملة وبدله خیر منه ریعاً ونفعاً،وھذا لایجوز استبداله علیٰ الاصح المختار اھ ( 4/384)-