السلام علیکم !
حضرت عرض یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ناراض ہو ،اور بیوی اس کو واسطے دیکر کر منانے کی کوشش کررہی ہو مثال کے طور پر آپ کو اللہ کا واسطہ یا آپ کو قرآن کا واسطہ ہے، یا اللہ کو مانو مجھ سے ناراض نہیں ہوا کر و ،یااللہ کو مانو مجھ سے لڑا نہ کر و وغیرہ، اس طرح کے واسطے دیکر منانے کی کوشش کرے اور شوہر اس کو غصے میں کہہ دے کہ اگر آپ نے دوبارہ بلا وجہ اللہ کے نام ڈالے تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے اور اگر بیوی پھر بھی واسطے دے کہ اللہ کے لئےمجھ سے ناراض نہ ہو تو کیا اس صورت میں طلاق ہو گی یا نہیں ؟
شخص مذکور کے یہ الفاظ تعلیق طلاق کے ہیں چنانچہ ان الفاظ کے ادا کرنے کے بعد اگر بیوی اس کو دوبارہ اللہ تعالی کا واسطہ دے گی تو شرط پائی جا نے کی وجہ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے مگر آئندہ کیلے اس کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ،جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو اس کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے ۔
كما في الهندية : ألفاظ الشرط إن وإذا واذماوكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحدث بعده اھ (1/352)۔
وفيها أيضا : ومن جملة ألفاظ الشرط لو و من و أي و ايان و اين و أني كذا في التبيين ومنها في إذا دخل على الفعل كقوله أنت طالق في دخولك الدار يعنى ان دخلت الدار هكذا في العتابية، فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال الامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين اھ (1/453)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0