السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب DRAZ.PK جو پاکستان میں آن لائن شاپنگ کی ایک ویب سائٹ ہے، یہ اپنے نئے کسٹمرز کو ایک آفر دیتی ہے، جس کے تحت 200 روپے کا واؤچر ملتا ہے، کسٹمر اسے استعمال کر کے کسی بھی خریداری پر 200 کاڈسکاؤنٹ حاصل کر سکتا ہے، اگر اس کی خریداری 200 سے کم کی ہو ، تو اسے وہ چیز فری مل جاتی ہے، صرف ڈیلیوری کا کرایہ چارج کیا جاتا ہے ، کیا اس واؤچر کا استعمال درست ہے ؟ براہ مہربانی اس کا جواب عنایت فرمادیں، اگر یہ حرام ہے ، تب بھی اس کے بارے میں مطلع فرمادیجیے۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء!
واؤچر کی صورت میں پہلی خریداری پر ملنے والا دو سو روپے کا مذکورہ ڈسکاؤنٹ کمپنی کی طرف سے نئے کسٹمر کے لئے انعام ہے، جس کے استعمال میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
كما في الدر المختار: (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قال - صلى الله عليه وسلم - «تهادوا تحابوا» . (5/ 687)۔