السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! قسطوں پر موٹر سائیکل کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ (1) موٹر سائیکل کی نقد قیمت 60000 ہے، خریداری کے وقت 12 ماہ میں منافع کے ساتھ قیمت 70200 طے ہوجاتی ہے، 15000 ایڈونس وصول کر لیا جاتا ہے، بقایا رقم 55200 قسط کی صورت میں ہر ماہ 4600 و صول کی جاتی ہے، اس طرح 12 ماہ میں یہ رقم وصول ہوجاتی ہے،(2) معاملہ کے وقت خریدار کہتا ہے اگر رقم 55200 ، 6 ماہ میں مکمل کردو تو اس میں کمی ہوجائیگی، تو ہم اس سے یہ کہتے ہیں کہ بوقت خریداری ہم یہ طے نہیں کرسکتے ، 6 ماہ بعد بھی موٹر سائیکل کے مالک ہم ہیں اگر ہوسکا تو خیال کردیں گے، رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ نقد کے مقابلے میں ادھار مہنگے دام کسی چیز کو فروخت کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ مجلس عقد میں یہ طے کیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار پر کیا جارہا ہے اور تمام قسطیں اور ہر قسط کی مالیت بھی طے کی جائے اور کسی قسط کی تاخیر یا شارٹ ہونے پر کسی قسم کا جرمانہ طے نہ ہو، چناچہ موٹر سائیکل کا کاروبار بھی انہی شرائط کے مطابق کیا جارہا ہو تو شرعاً جائز اور درست ہے، جبکہ ادھار قسطوں پر معاملہ ہونے کے بعد موٹر سائیکل خریدار کی ملک ہوجاتی ہے اس لئے پیشگی قیمت ادا کرنے کی صورت میں طے شدہ قمیت میں کمی کرنے کا مشروط معاملہ کرنا بھی درست نہیں۔
کما احکام القرآن للجصاص: ومن أجاز من السلف إذا قال عجل لي وأضع عنك فجائز أن يكون أجازوه إذا لم يجعله شرطا فيه وذلك بأن يضع عنه بغير شرط الخ (2/187)۔
و فی الھدیۃ: لأن للأجل شبھا بالمبیع ألا یری أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل اھ (3/78)۔
و فی بدائع الصنائع: ولامساواۃ بین النقد والنسیئۃ لأن العین خیر من الدین والمعجل أکثر قیمۃ من المؤجل اھ (5/187)۔
و فی الفقہ الاسلامی: لأن لأجل سبب فی زیادۃ الثمن عادۃ، فان ثمن المبیع یختلف بین النسئیۃ والنقد اھ (4/709)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1