سونے چاندی کو کرنسی نوٹ کے بدلہ ادھار بیچنا جائز ہے یا نہیں? نیز بیع صرف کے لیے ثمن حقیقی ہونا ضروری ہے یا ثمن عرفی (کرنسی) میں بھی بیع صرف ہو جاتی ہےَ؟
(۱) سونا و چاندی کو کرنسی نوٹ کے عوض ادھار فروخت کر ناشر عا جائز ہے ، بشر طیکہ ایک طرف سے قبضہ پایا جائے۔
(۲) بیع صرف کے لیے ثمن حقیقی خلقی ہو نا ضروری ہے ، ثمن عرفی یعنی کرنسی نوٹ کے باہم تبادلہ میں بیع صرف کے احکام جاری نہیں ہوتے ، البتہ ثمن عرفی (کرنسی) کے باہم مبادلہ کے وقت ایک جانب سے قبضہ ضروری ہے ، اور ایک ہی ملک کی کرنسی کی صورت میں کمی بیشی بھی جائز نہیں۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وقيد بالذهب والفضة لأنه لو باع فضة بفلوس أو ذهب بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما، كذا في الذخيرة اھ (6/ 211)
و في الفتاوى الهندية: وإن اشترى خاتم فضة أو خاتم ذهب فيه فص أو ليس فيه فص بكذا فلسا وليست الفلوس عنده فهو جائز تقابضا قبل التفرق أو لم يتقابضا لأن هذا بيع وليس بصرف كذا في المبسوط اھ (3/ 224)
و في فقه البيوع: فالصحيح الراجح في زماننا ان مبادلة الأوراق النقدية الصادرة من دولة واحدة انما تجوز بشرط تماثلها، ولا يجوز التفاضل فيها . اھ (۲/ ۷۳۵) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1