جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ کرونا وائرس وبا نے متعدد ممالک کو اپنے لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس وبا کے خاتمے کے لئے بہت سے لوگ اجتماعی اذان کی ترغیب بھی دے رہے ہیں، جس کی صورت یہ ہے کہ رات کے مخصوص وقت میں گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اجتماعی طور پر یعنی ایک ساتھ اذان دی جائے، اسی طرح مساجد کے عمومی اسپیکر سے بھی اذانیں دی جائیں، جس کی وجہ سے امید ہے کہ یہ وبا ختم ہو جائے، اسی تناظر میں بعض حضرات وبا ختم ہونے تک ہر روز ان اذانوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں، اس کا شرعی حکم معلوم ہو سکے گا؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہاء کرام رحمہم اللہ نے نماز کے علاوہ کیلئے اذان دینے کے جتنے مواقع بیان فرمائے ہیں، ان میں وباءِ عام کے وقت اذان دینے کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا سنت یا مستحب سمجھ کر مذکورہ موقع میں اذان دینا درست نہیں، البتہ دفعِ مصیبت کیلئے بطورِ علاج مذکورہ موقع میں اذان دی جائے تو یہ فی نفسٖہ اگرچہ مباح ہے، لیکن عوام الناس چونکہ حدود و قیود کا لحاظ نہیں رکھتے اور اسے شریعت کا حکم سمجھتے ہیں، اس لئے اس سے اجتناب کیا جائے۔
كما في الشامية: (قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فیندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي: رأيت فی كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش، وعند الحريق، قيل وعند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر فی شرح العباب، وعند تغول الغيلان: أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فیه. أقول: ولا بعد فیه عندنا. اهـ. أي لأن ما صح فیه الخبر بلا معارض فهو مذهب للمجتهد وإن لم ينص عليه، لما قدمناه فی الخطبة عن الحافظ ابن عبد البر والعارف الشعراني عن كل من الأئمة الأربعة أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي، على أنه فی فضائل الأعمال يجوز العمل بالحديث الضعيف كما مر أول كتاب الطهارة، هذا، وزاد ابن حجر فی التحفة الأذان والإقامة خلف المسافر. قال المدني: أقول وزاد فی شرعة الإسلام لمن ضل الطريق فی أرض قفر: أي خالية من الناس. وقال المنلا علي فی شرح المشكاة قالوا: يسن للمهموم أن يأمر غيره أن يؤذن فی أذانه فإنه يزيل الهم، كذا عن علي - رضي الله عنه - ونقل الأحاديث الواردة فی ذلك فراجعه. اھ.(1/385)-