السلام علیکم! میں جانا چاہتا ہوں کہ رات دس بجے جو اذان دی جاتی ہے، کرؤناوائرس سے جان چھٹرانے کےلیے کیا یہ درست ہے؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں کیا یہ طریقہ کار صحیح ہے؟ اسلام کی رو سے اس کی اجازت ہے کیا یہ بدعت کے زمرے میں آتاہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہاء کرام رحمہم اللہ نے نماز کے علاوہ کےلیے اذان دینے کے جتنے مواقع بیان فرمائے ہیں، ان میں وباءِ عام کے وقت اذان دینے کا ذکر نہیں ہے، لہذا سنت یا مستحب سمجھ کرمذکورہ موقع میں اذان دینا درست نہیں، البتہ دفعِ مصیبت کےلیے بطور علاج مذکورہ موقع میں اذان دی جائے تو یہ فی نفسہ اگرچہ مباح ہے، لیکن عوام الناس چونکہ حدود و قیود کا لحاظ نہیں رکھتے اور اسے شریعت کا حکم سمجھتے ہیں اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے۔
كما في الشامية: (قوله لا يسن لغيرها ) أي من الصلوات والا فيندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي رأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم والمصروع والغضبان، ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش وعند الحريق، قيل وعند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا لكن رده ابن حجر في شرح العباب، وعند تغول الغيلان أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فيه. أقول: ولا بعد فيه عندنا. اهـ (ج 1 / ص (358)۔