السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ایک ایسا نیکی والا عمل ہو، کوئی ایسا اچھا کام ہو کہ جو بذاتِ خود تو صحیح السند احادیث سے ثابت شدہ ہو، لیکن کسی خاص وقت یا کسی خاص موقع پر اس عمل، اس کام کا صحیح السند احادیث میں کوئی ثبوت لکھا ہوا نہ ملے، لیکن قرآن و سنت میں کہیں بھی اس کام اس عمل کو حرام نہ قرار دیا گیا ہو تو کسی خاص وقت یا کسی خاص موقع پر اس عمل، اس کام کو کرنا کیا مستحب ہوگا یا حرام و بدعت ہو گا؟
مثلاً یہ کہ اذان دینا یقینی صحیح الاسناد روایات سے ثابت شدہ عمل ہے، اس عمل کے ثابت شدہ سنت ہونے میں ذرہ برابر کوئی شک نہیں، اذان دینا بےحد ثواب کا عمل ہونا بھی یقینی ثابت ہے، لیکن کسی بيماری يا وبا کی صورت میں نمازوں کے اوقات کے علاوہ اذانیں دینا اگر صحیح السند حدیث میں لکھا نہ مل سکے تو کیا ایسا عمل (اب کرونا وبا کو دور کرنے کے لئے) کرنا کیا مستحب ہو گا یا حرام بدعت ہو گا؟ اگر اس کو صرف ایک طریقۂ علاج سمجھ کر کیا جائے یعنی فرض واجب یا سنت بھی نہ قرار دیا جارہا ہو ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہاءِ کرام رحمہم اللہ نے نماز کے علاوہ کیلئے اذان دینے کے جتنے مواقع بیان فرمائے ہیں، ان میں وباءِ عام کے وقت اذان دینے کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا سنت یا مستحب سمجھ کر مذکور موقع میں اذان دینا درست نہیں، البتہ دفعِ مصیبت کیلئے بطورِ علاج مذکور موقع میں اذان دی جائے تو یہ فی نفسٖہ اگرچہ مباح ہے، لیکن عوام الناس چونکہ حدود و قیود کا لحاظ نہیں رکھتے اور اسے شریعت کا حکم سمجھتے ہیں، اس لئے اس سے اجتناب کیا جائے۔
کما في الشامية: (قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فیندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي: رأيت فی كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش، وعند الحريق، قيل وعند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر فی شرح العباب، وعند تغول الغيلان: أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فیه. أقول: ولا بعد فیه عندنا. اهـ. أي لأن ما صح فیه الخبر بلا معارض فهو مذهب للمجتهد وإن لم ينص عليه، لما قدمناه فی الخطبة عن الحافظ ابن عبد البر والعارف الشعراني عن كل من الأئمة الأربعة أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي، على أنه فی فضائل الأعمال يجوز العمل بالحديث الضعيف كما مر أول كتاب الطهارة، هذا، وزاد ابن حجر فی التحفة الأذان والإقامة خلف المسافر. قال المدني: أقول وزاد فی شرعة الإسلام لمن ضل الطريق فی أرض قفر: أي خالية من الناس. وقال المنلا علي فی شرح المشكاة قالوا: يسن للمهموم أن يأمر غيره أن يؤذن فی أذانه فإنه يزيل الهم، كذا عن علي - رضي الله عنه - ونقل الأحاديث الواردة فی ذلك فراجعه. اھ(1/385)