السلام علیکم !مفتی صاحب! میں دکاندار سے ایک موٹر سائیکل قسط پر لیتا ہوں اور اسی وقت نقد پر اس دکاندار کو بیچ دیتا ہوں، رقم کی ضرورت کے پیش نظر اور ماہانہ قسط ادا کروں، کیا یہ درست ہوگا مہربانی کر کے رہنمائی کر دیں۔ شکریہ!
سائل کا موٹر سائیکل قسطوں پر خرید کر پھر رقم کی ضرورت کے پیش نظر اسی دوکاندار کو نقد پر بیچنا محض ایک غلط حیلہ ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الهداية شرح البداية: قال ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن الأول لا يجوز البيع الثاني وقال الشافعي رحمه الله يجوز لأن الملك قد تم فيها بالقبض فصار البيع من البائع ومن غيره سواء وصار كما لو باع بمثل الثمن الأول أو بالزيادة أو بالعرض ولنا قول عائشة رضي الله عنها لتلك المرأة وقد باعت بستمائة بعدما اشترت بثمانمائة بئسما شريت واشتريت أبلغي زيد بن أرقم أن الله تعالى أبطل حجه وجهاده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لم يتب و ولأن الثمن لم يدخل في ضمانه فإذا وصل إليه المبيع ووقعت المقاصة بقي بقي له فضل خمسمائة وذلك بلا عوض يخلاف ما إذا باع بالعرض لأن الفضل إنما يظهر عند المجانسة (الى قوله) لآنه لا بد أن يجعل بعض الثمن بمقابلة التي لم يشترها منه فيكون مشتريا للأخرى بأقل مما باع وهو فاسد عندنا اھ (3/ 47)
و في فقه البيوع : الاول ما عرفه النووى بقوله : وهو ان يبع غيره شيئا بثمن موجل ويسلمه اليه ، ثم يشتريه قبل قبض الثمن باقل من ذلك الثمن نقدا فان كان البيع الثانى مشروطا في البيع الاول فهو بيع فاسدا بالاجماع اھ (۱ /547)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1