براہ کرم آپ بتائیں کہ کسی مسلمان کے لئے ،اسلامی بینک سے قرض برائے تعمیر مکان کا لینا شرعاً جائز ہے ؟جبکہ بینک والے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ شرعی اصولوں کے مطابق ہے۔
اگر متعلقہ بینک والے غیر سودی قرض دیں اور تحقیق سے اس کا غیر سودی ہونا معلوم بھی ہو جائے، تو شرعاً اس کے لینے میں حرج نہیں ور نہ اس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ( سورۃ البقرۃ ایۃ 278)۔
و فی الصحیح : عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» (3/1219 رقم الحدیث 1598)۔
و فی احکام القرآن لأبی بکر جصاص حنفی: فمن الربا ماھو بیع منہ مالیس ببیع وھو ربا اھل الجاھلیہ وھو القرض المشروط فیہ الأجل وزیادہ علی المستقرظ (1/429)۔