محترم مفتی صاحب آپ بتائیں کہ اسٹاک مارکیٹ میں شیئر کا کاروبار حرام ہے یاحلال؟ میں نے نومبر 2007 سے شیئر کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے اور چالیس ہزار کما چکا ہوں، میں جب شیئر ز خریدتا ہوں تو اس وقت میرے اکاؤنٹ میں جو رقم موجود ہوگی اس حساب سے خریدتا ہوں اور اگر اس وقت رقم موجود نہ ہو تو دو دن کے اندر اس کا انتظام کر کے ان شیئرز کی مساوی رقم حوالہ کردیتا ہوں، جن کی خریداری کی تھی، اب آپ بتائیں کہ یہ حرام ہے کہ حلال؟
اسٹاک ایکسچینج سے شیئرز کی خرید وفروخت درج ذیل چار شرائط کے ساتھ جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی حلال ہے ۔(1) اصل کاروبار حلال ہو، نا جائز اور حرام اشیاءجیسے شراب بنانے کی فیکٹری نہ ہو اس کمپنی کابنیادی کاروبار سود پر مبنی نہ ہو وغیرہ (2) اس کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے وجود میں آچکے ہوں رقم صرف نقد کی شکل میں نہ ہو (3) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہو تو اس کی سالانہ میٹنگ میں سود کے خلاف آواز اٹھائی جائے (4) جب منافع تقسیم ہو تو اس وقت جتنا نفع کا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو اس کو بلانیت ثواب صدقہ کردے یہ تب ہے جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا ہو اور پھر گھر بیٹھ کر اس کا سا لانہ نفع حاصل کرناہو لیکن بعض لوگ اس مذکور غرض سے نہیں خریدتے بلکہ ان کا مقصد کیپیٹل گین ہوتا ہے یعنی وہ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کسی کمپنی کے شیئر کی قیمت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، چنانچہ اس کمپنی کا شیئرز خرید لیتے اور پھر چند روز بعد جب قیمت بڑھ جاتی ہے، تو فروخت کر دیتے ہیں اور نفع حاصل کرتے ہیں، اس کی بھی شرعاً مذکورہ شرائط کے ساتھ گنجائش ہے، اس کو درست کہنے کی صورت میں دشواری سٹہ بازی کے وقت پیش آتی ہےجو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بلکل مقصود نہیں ہوتا،بلکہ آخر میں جا کر آپس کا فرق (ڈیفرنس )برابر کیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیش نظر ہوتا ہے، لہذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بلکل نہ ہو اور نہ لینا مقصود ہو اور نہ دینا مقصود ہو بلکہ اصل مقصد یہ ہو کہ اس طرح سٹہ بازی کر کے ڈیفرنس کو برابر کر لینا مقصود ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں اور بعض اوقات شیئر ز کی ڈیلوری اور قبضہ کرنے سے پہلے آگے فروخت کر دیا جاتا ہے، اور شیئرز کا قبضہ یہ ہے کہ اس حصے کو فوائد ونقصانات اس حصہ کی ذمہ داری اور اس کے منافع کا حقدار بن گیا ہے یا نہیں اگر حقدار بن گیا ہے تو یہ قبضہ سمجھا جائیگا آگے فروخت کرنا جائز ہوگا اگر مذکورہ قبضہ متحقق نہیں ہوا تو آگے فروخت کرنا بھی جائز نہیں۔
کما فی المغنی لابن قدامۃ: فَصْلٌ: وَإِنْ بَاعَ شَيْئًا فِيهِ الرِّبَا، بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، وَمَعَهُمَا، أَوْ مَعَ أَحَدِهِمَا مِنْ غَيْرِ جِنْسِهِ، كَمُدٍّ وَدِرْهَمٍ بِمُدٍّ وَدِرْهَمٍ، أَوْ بِمَدَّيْنِ، أَوْ بِدِرْهَمَيْنِ. أَوْ بَاعَ شَيْئًا مُحَلًّى بِجِنْسِ حِلْيَتِهِ، فَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ تُسَمَّى مَسْأَلَةَ مُدِّ عَجْوَةٍ. وَالْمَذْهَبُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ ذَلِكَ. نَصَّ عَلَى ذَلِكَ أَحْمَدُ، فِي مَوَاضِعَ كَثِيرَةٍ، وَذَكَرَهُ قُدَمَاءُ الْأَصْحَابِ، (الی قولہ) وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَأَبُو حَنِيفَةَ: يَجُوزُ. هَذَا كُلُّهُ إذَا كَانَ الْمُفْرَدُ أَكْثَرَ مِنْ الَّذِي مَعَهُ غَيْرُهُ، أَوْ كَانَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ غَيْرِ جِنْسِهِ. الخ (4/28)۔
و فی سنن الترمذی: حدثنا قتيبة، قال: حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن يوسف بن ماهك، عن حكيم بن حزام قال: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أبيع ما ليس عندي.(2/525 رقم الحدیث 1233)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1