مجھے اسلامی بینک کے بارے میں پوچھنا ہے کہ اگر میزان اسلامی بینک سے اپنا ذاتی گھر لینے کے لئے رقم وصول کی جائے اور واپسی میں اتنی ہی رقم دی جائے، لیکن اس میں رینٹ کی صورت میں اضافی رقم بھی دی ، جیساکہ میں نے سو لاکھ روپے کا لون لیا، اور پانچ سال میں ادائیگی کی، لیکن رینٹ کی صورت میں ہر مہینہ اضافی رقم بھی ادا کی ، جو کہ پانچ سال میں دو لاکھ روپے تک بنے گی، مطلب میں دس لاکھ لیتا ہوں رینٹ کی ادائیگی کے ساتھ بارہ لاکھ واپس میں دیتا ہوں، لیکن رینٹ کی رقم جیسے جیسے مہینہ کے اعتبار سے ادائیگی ہوتی جائے گی ویسے ہی ٹوٹل رقم کے حساب سے بھی مہینہ کی قسط میں کمی ہوتی جائے گی، اس صورت میں میرے لئے کیا مناسب ہے؟
واضح ہو کہ ہماری معلومات کے مطابق کوئی بھی اسلامی بینک کسی کو قرض دیکر اس پر اضافی رقم وصول کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، کیونکہ یہ صریح سودی معاملہ ہوگا، جس سے اسلامی بینکوں میں اجتناب کیا جاتا ہے، بلکہ لوگوں کو گھر دلوانے کے لئے دیگر جائز اصول اپنائے جاتے ہیں، چنانچہ مذکور بینک نے سائل کو بھی اجارہ وغیرہ کسی جائز طریقے سے گھر دلوایا ہو تو سائل کے لئے مذکور بینک سے گھر لینے کی گنجائش ہے، البتہ اگر سائل نے واقعۃً محض کاغذات پر دستخط کر کے براہِ راست بینک سے رقم حاصل کی ہو تو اس طرح رقم لیکر اضافہ کے ساتھ واپس لوٹانا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے اس لئے متعلقہ ادارے کے شرعی ذمہ داران پر لازم ہے کہ معاملات کو شرعی اصول کے مطابق انجام دینے کی پوری کوشش کریں اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کاروائی بھی کریں۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1