السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں امانت علی ہوں میرا تعلق فیصل آباد سے ہے، میرے پاس کچھ رقم ہے بزنس میں لگانے کے لئے تاکہ منافع حاصل ہو، میرے دوست نے مجھے میزان بینک کے متعلق بتایا کہ یہ اسلامی بینک ہے جس میں سود کا شبہ نہیں ہے ،میں اس کو کنفرم کرنا چاہتا ہوں، کیا اس کے ساتھ معاملہ کرنا شریعت کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟
میزان بینک کو جو بعض علماء کی طرف سے کاروباری فارمولا بنا کر دیا گیا ہے، وہ اگر چہ دوسرے مروّج بینکوں سے کہیں بہتر اور شریعت مطہّرہ کے بھی قریب تر ہے، مگر اس نظام کو چلانے والے افراد اصولِ شریعت سے ناواقفیت اور شرعی معاملات سے جہالت کی بنا پر عموماً ان معاملات اور فارمولوں کو عملی طور پر بجا لانے میں بہت سی غلطیوں کا شکار اور عملاً غیر اسلامی بینکوں کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں ، جو در اصل ضابطے کی خرابی نہیں بلکہ متعلقہ عملے کی ناسمجھی اور غلطی ہے جس کی بنیاد پر انجام دیا جانے والا معاملہ بھی شرعاً ناجائز ہوجاتا ہے، نیز ان اداروں کے غیر سرکاری اور پرائیویٹ ہونے کی وجہ سے ان کے اصول وضوابط بدلنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے اس لئے اس بینک کے ساتھ جو معاملہ کرنا ہو اگر اس کی پوری تفصیل لکھ کر بھیج دی جائے تو اس کے حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کیا جاسکتا ہے۔