السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ ہمارے محلے میں ایک مسجد گزشتہ تیس سال سےقائم ہے،لیکن مسجد کی زمین تاحال وقف انتقال نہیں کرائی گئی اور نہ ہی حقِ ملکیت اہلِ محلہ یا مشترکہ کے سپرد کیا گیا ہے،حال ہی میں مسجد کی تعمیر نو شروع کی گئی تو اہلِ محلہ نے جگہ کے مالکان اور ان کے رشتہ داروں سے یہ مطالبہ کیا کہ مسجد کی جگہ کو باقاعدہ وقف کیا جائے اور اس کے بعد مسجد رجسٹرڈ کروانا اور مشترکہ کمیٹی بنا کر مسجد کا کام شروع کیا جائے،لیکن مالکان نے اس بات سے نہ صرف انکار کیا،بلکہ وہ تمام لوگ جن کا یہ مطالبہ تھا،جن میں اہلِ محلہ کی اکثریت شامل تھی , کو مسجد سے گالم گلوچ کرکے نکال دیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا شرعی طور پر اس ملکیتی مسجد کو مسجد کہا جائے گا اور اس میں ادا کردہ نماز مسجد میں ادا کی گئی نماز کے حکم میں ہوگی، براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ وقف کے تام ہونے یا کسی مسجد کو شرعی مسجد کہلانے کے لئے اس کو باقاعدہ اہلِ محلہ یا مشترکہ کمیٹی کے حوالہ کرنا شرعاً ضروری نہیں،بلکہ زبانی کلامی وقف کرکے متعین کردہ جگہ کو اپنی ملکیت سے علیحدہ کرنا اور لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دینا کافی ہے،اس لئے جب مذکور جگہ کے مالکان نے اس جگہ کوباقاعدہ طور پر اپنی ملکیت سے علیحدہ کرنے کےبعد اس پر مسجد تعمیر کرکے لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دیدی اورعرصہ تیس سال سے اس میں نمازیں بھی ادا ہوتی رہیں تو مذکور جگہ مسجدِ شرعی بن چکی ہے،لہذا اس میں ادا کردہ نمازوں پر مسجدِ شرعی کے نمازوں کا ثواب حاصل ہوگا، تاہم واقفین کا سوال میں مذکور طرزِ عمل شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الھندیة:رجل له ساحة لا بناء فيها أمر قوما أن يصلون فيها بجماعة فهذا على ثلاثة أوجه: أحدها إما أن أمرهم بالصلاة فيها أبدا نصا، بأن قال: صلوا فيها أبدا. أو أمرهم بالصلاة مطلقا ونوى الأبد. ففي هذين الوجهين صارت الساحة مسجدا لو مات لا يورث عنه، وإما أن وقت الأمر باليوم أو الشهر أو السنة. ففي هذا الوجه لا تصير الساحة مسجدا لو مات يورث عنه، كذا في الذخيرة وهكذا في فتاوى قاضي خان اھ(2/455)۔
وفی الھدایة: واذا بنی مسجدا لم یزل ملکه عنه حتیٰ یفرزہ عن ملکه بطریقه ویاذن للناس بالصلاة فیه،فاذا صلی فیه واحد زال عند ابی حنیفة عن ملکه اھ(2/20)۔
وفی الدر المختار:(جعل)الواقف(الولایة لنفسه جاز)بالاجماع اھ(4/379)۔