یہ بات لندن انگلینڈ کی ہے، عمر نے بچوں والی گاڑی کباڑی سے خريدی sold as seen، جب عمر گاڑی گھر لے کر آیا گاڑی میں سے سونے gold کی کوئی چیز نکلی ، عمر نے کباڑی سے پوچھا کہ کیا تیری کوئی چیز گم ہوئی ہے ،کباڑی نے کہا کہ نہیں، سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کا مالک کون ہے؟
کباڑی سے بچوں کے لئے خریدی جانے والی گاڑی میں جو سونا برآمد ہوا ہے ، اس کا مالک اگر معلوم ہو، تو یہ سونا اسے واپس کر دینا شرعاً لازم ہے، لیکن اگر مالک معلوم نہ ہو، تو ایسی صورت میں مسمیٰ عمر اگر غریب اور مستحقِ زکوۃ ہو، تو اس کے لئے بھی اس سونے کو اپنے استعمال میں لانے کی اجازت ہے ، ورنہ اسے چاہئیے کہ یہ سونا کسی مستحق کو صدقہ کر دے۔
كما في الفتاوى الهندية: ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع على الملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه كذا في شرح مجمع البحرين اھ (2/ 289)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1