ہمارے یہاں کھجور بازار میں یہ طریقہ رائج ہے کہ وزن میں راؤنڈ فیگر کیا جاتا ہے، مطلب یہ کہ اگر ایک کھجور کی پیٹی کا وزن 40 کلو اور 600 گرام ہوا تو 600 گرام شمار نہیں کیے جاتے، اسی طرح اگر 40 کلو اور 900 گرام وزن ہوا تو 900 گرام شمار نہیں کیے جاتے جب تک ایک ہزار گرام مکمل نہ ہو، تب تک اس کلو کو شمار نہیں کیا جاتا ، یہ بازار کا اصول بنا دیا گیا، اور اسی پر سب عمل کرتے ہیں، بیچنے والے اور خریدار کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے ،اور کوئی نزاع بھی نہیں ہوتا ۔ شریعت کے مطابق راہ نمائی کیجیے ایسا اصول بنانا جائز ہے ؟
مارکیٹ کے اصول کی وجہ سے اگر خریدار اور بائع دونوں اس راؤنڈ فیگر پر راضی ہوں ، تو اس طرح معاملہ کرنا جائز اور درست ہے۔
ففي مشكاة المصابيح : عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال: أصابته السماء يا رسول الله قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ من غش فليس مني» . رواه مسلم اھ (2/ 865)
وفي ہامش الهداية: ويقال هو مبادلة المال بالمال بالتراضي بطريق التجارة اھ (۳/ ۱۹)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1