السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں ایک پرائیویٹ ادارے کا ریٹارڈ ملازم ہوں؟ میری پنشن کے پیسے ایک پرائیویٹ بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں جمع ہیں، جہاں سے شش ماہی منافع ملتا ہے، جسے میں بلاثواب کی نیت سے کسی ضرورت مند کو دے دیتا ہوں، میں نے انگلینڈ کی ایک کمپنی کے لیے کنسلٹنسی دی اور انہوں نے مجھے بینک کے ذریعے رقم بھیجی ، جس پر ٹیکس کے قوانین کے حساب سے ٹیکس بنتا ہے، کیا سیونگ اکاونٹ کے منافع (سود) کے پیسوں سے وہ ٹیکس بھرا جاسکتا ہے؟
سودی رقم چونکہ واجب التصدق ہوتی ہے، اس کو کسی مستحق فقیر کو بلانیت ثواب دینا لازم ہوتا ہے، اس لیے اس سے ٹیکس ادا کرنا درست نہیں ۔
جبکہ سائل کا سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس پر ملنے والے سود کو صدقہ کرنے کی نیت سے مذکور اکاؤنٹ برقرار رکھنا بھی درست نہیں، بلکہ اس کو ختم کر کے کسی اسلامی بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوانا یا اگر یہ ممکن نہ ہو تو اسی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا لازم ہے، تاکہ سودی لین دین میں ذریعہ بننے کا گناہ لازم نہ آئے۔
کما فی الفقہ البیوع: المال المغصوب ، وما فی حکمہ مثل ماقبضہ الانسان رشوۃ أو سرقة أو بعقد باطل شرعا، لایحل لہ الانتفاع بہ، ولا بیعہ وھبتہ ولایجوز لاحد یعلم ذالک ان یاخذ منہ شراء أو ھبة أو ارثا ویجب علیہ ان یردہ الی مالکہ، فان تعذر ذلک وجب علیہ ان یتصدق بہ عنہ وان کان المال فقد واشتری بہ شیئا بالزعم من عدم الجوار ، فان اشتری بعین المال الحرام ، فلایجوز الانتفاع بما اشتراہ حتی یؤدی بدلہ الی صاحبہ، وھذا القدر متفق علیہ بین الفقھاء، الاّ ماروی عن ابن مزین من المالکیة، وھو قول مرجوح اما اذا اشتری شیئا بثمن فی ذمتہ ، ثم نقد الثمن من الحرام، فھناک اقوال فی مذاھب الأئمة انہ جاز الانتفاع باالمشتری ، و جاز الشتراء وقبول الھدیة منہ ولکن الراجح انہ لایجوز الا بعد اداء البدل الی المالک ، او بعد التصدق ان تعذر اداء البدل الیہ ، فان ادی البدل او تصدق بمثلہ، جاز لہ الانتفاع وجاز لآخر ان یاخذہ منہ ھبة او شراء او ارثا( 2/1056)۔
وفیہ ایضاً: اما فی بیان القسم الاول نعبر عن جمیع العقود الباطلة فیما یاتی بالمغصوب والذی یقبض ھذ المال الحرام بالغصب وذلک لمھولة التعبیر، ویشمل ھذالتعبیر کل مال حرام لایملکہ المراۃ فی الشرع، سواء کان غصبا، او سرقة او رشوۃ، او ربا فی القرض او ماخوذ ببیع باطل ، وانہ حرام للغاصب الاتفاع بہ،او التصرف فیہ الخ (2/1006)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0