السلام علیکم!
قبرستان کی زمین پر قبروں کے نشانات ہونے کے باوجود اس کے اوپر قبضہ کر کے تعمیرات کرنا کیسا ہے؟ کیا ایسے شخص کی امامت یا بیعت جائز ہے ؟
سائل نے یہ وضاحت نہیں کی کہ مذکور قبرستان وقف ہے، یا کسی کی ذاتی ملکیت ہے ؟ تاہم اگر مذکور قبرستان وقف ہو یا کسی کی ذاتی ملکیت ہو، لیکن اس نے شخص مذکور کو وہاں تعمیرات کی اجازت نہ دی ہو، تو شخص مذکور کا اس زمین پر قبضہ کر کے اس میں تعمیرات کرنا ظلم اور غصب پر مبنی عمل ہے، جو کہ شرعاً جائز نہیں، لہٰذا مذکور شخص کو اپنے اس عمل سے باز آنا چاہیے، پھر اگر وہ توبہ تائب ہو کر اس عمل سے باز آجائے تو اس کی اقتداء میں نمازیں پڑھنا یا اس کے ہاتھ پر بیعت کرنا جائز ہوگا، ورنہ نہیں۔
ففي مشكاة المصابيح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين» اھ (2/ 887)
و في الدر المختار: (ويكره) تنزيها (إمامة عبد وأعرابي وفاسق وأعمى) (1/ 559)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك، كذا في البرجندي إسماعيل. و في المعراج قال أصحابنا: لا ينبغي أن يقتدي بالفاسق اھ (1/ 560)
و في التاتارخانیة: ویکره أن یکون الإمام فاسقا ویکره للرجال أن یصلوا خلفه اھ (۲/ ۲۵۱) واللہ اعلم بالصواب