السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ حضرت میں کافی دنوں سے پریشان ہوں پریشانی کی وجہ یہ کہ میرا ایک پڑوسی ہے جو کہ وہ مجھ پر اور میری والدہ پر یہ الزام لگاتا ہے کہ تم لوگ جادو گر ہو ، حالیہ دنوں میں میرے پڑوسی کے گھر لگاتار تین میت ہو گئی اور تمام کے وفات کا الزام مجھ پر عائد کرتا ہے ، بحمدہ تعالی! میں مدرسے سے فارغ ہوں میری فضیلت کی دستار ہو چکی ہے اور میں منصب امامت پر ہوں؟ اب میں کیا کروں وہ شخص میرے جان و مال کا دشمن ہو چکا ہے، وہ شخص مطلق جاہل ہے لیکن معاشرے کے لوگ اسی ظالم کی واہ واہ کرتے ہیں ؟ حضرت کچھ مشورے سے نوازے مہربانی ہو گی۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو سائل کے پڑوسی کا بے بنیاد الزام تراشی کر کے سائل کو لوگوں میں بد نام کرنا اور جان کا دشمن بن جانا سخت غلطی ہے، سائل کے پڑوسی کو چاہیے کہ اپنے مذکور طرز عمل سے باز آ کر حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی کوشش کرے ، تاہم اگر وہ اپنے طرز عمل سے باز نہ آئے ، تو علاقے کے معززین کے سامنے تمام تر حقائق رکھ کر کے اس کے شر سے بچنے کی تدبیر کی جا سکتی ہے ، یا ایسے شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر کے اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے۔