السلام علیکم!
عرض یہ ہے کہ علماءِ کرام کیا فرماتے ہیں کہ" نجمی وفائی توانائی " کو سیکھنا اور اس سے علاج کرنا کیا یہ جائز ہے؟ یہ ریکی کے مشابہ علم ہے جس کے سیکھنے میں استاد اپنے شاگر دسے ایک خاص قسم کا مراقبہ کر واتا ہے، اس مراقبہ میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ آسمان سے اللہ تعالیٰ کا نور جسم میں داخل ہو رہا ہے اور یہ نور پورے جسم میں پھیل رہا ہے۔
اس کے علاج کا طریقہ : معالج مریض کو سامنے بٹھا کر اس کی آنکھیں بند کر کے مریض اگر محرم یا مذکر ہوں، تو معالج اس کے سر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر یا مریض غیر محرم ہو تو کچھ فاصلے سے بغیر چھوئے معالج یہ تصور کرتا ہے کہ اللہ کا نور معالج کے ذریعے سے مریض کے جسم میں داخل ہو کر جس قسم کا درد یا تکلیف یا بیماری ہو تو وہ اللہ کے فضل و کرم اور اس ذات پاک کے نور کی مدد سے وہ مرض دور ہو جاتا ہے۔
آپ مفتیان کرام سے یہ پوچھنا ہے کہ آیا اس سے علاج جائز ہے یا ناجائز؟ کیونکہ کچھ لوگ اس کو جادو ٹونہ کہتے ہیں، آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ پر روشنی ڈال کر ہمیں فتویٰ عنایت فرمائیں۔
نوٹ: اس سے پہلے ریکی کے بارے میں آپ کے یہاں سے ایک فتوی جاری ہو چکا ہے، جس کا سیریل نمبر 13283 ہے، یہ عمل بھی ہو بہور یکی ہے۔
اگر مذکور علاج میں واقعۃً جادو وغیرہ یا غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو، اور نہ ہی شیاطین اور ارواح خبیثہ سے مدد لی جاتی ہو، تو ایسا علاج بلاشبہ جائز ہے ، ورنہ نہیں۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن،وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية اهـ فلتراجع نسخة أخرى. و في المغرب وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم وليس كذلك إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ (6/ 363)۔
و في سنن أبي داود: عن عوف بن مالك، قال: كنا نرقي في [ص:11] الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله، كيف ترى في ذلك؟ فقال: «اعرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم تكن شركا» اھ (4/ 10)۔