مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی جس کو کرپٹو کرنسی بھی کہا جاتا ہے ، اس کو پرچیز کرنا اور سیل کرنا جب اس کی قیمت بڑھ جائے، تو کیا یہ خریدنا اور بیچنا جائز ہے کہ نہیں؟ جب کہ بروکر (یعنی جس سے کرنسی خرید رہے ہو )بھی سچا آدمی ہے ، جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟
سوال میں مذکور (کرپٹو) کرنسی کا کوئی حسی(حقیقی) وجود نہیں، بلکہ محض ڈیوائس میں موجودگی اور ضمان کی حد تک اس کو کرنسی خیال کیا جاتا ہے ، جبکہ ملکی قانون میں اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کے لیے استعمال کرنا بھی ممنوع ہے ، نیز کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر انٹرنیٹ پر دھوکہ دہی بھی عام ہے ، لہذا مذکورہ کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے سے احتراز لازم ہے ۔
كما في الترغيب والترهيب: من غشنا فليس منا اھ (۲/۳۳۴) والله اعلم بالطوب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1