سورہ بقرہ میں لفظ ’’ثلثۃ قروء‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ اگر کسی خاتون کو ایک طلاق دی جا چکی ہے، تو اگر تین مہینے ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیا جائے، تو کیا طلاق واقع ہو جائیگی ؟ یا قروء سے مراد تین طہر ہیں یا تین حیض ، مفصّل جواب طلب ہے۔ یہ سوال ہمارے سلیبس میں موجود ہے، اس لئے اگر اس کا جواب جلد دیں تو بہت نوازش ہو گی شکریہ !
لفظ قروء اضداد میں سے ہے، باتفاقِ ائمۂ لغت اس کا استعمال حیض اور طہر دونوں میں یکساں ہے، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک آیتِ کریمہ میں لفظ قروء سے مراد حیض ہے ،اور خلفاء راشدین ، اکابر صحابہ و تابعین سے بھی یہی منقول ہے ،نیز عدَّت کی مشروعیت سے غرض ہے کہ رحم کا بچہ سے خالی ہونا معلوم ہو جائے، اور یہ بات حیض ہی سے معلوم ہو سکتی ہے، طہر سے معلوم نہیں ہو سکتی۔
جبکہ اگر کسی خاتون کو ایک طلاق صریح دی جائے، تو تین حیض کی صورت میں عدّت گزرنے سے قبل اگر چہ رجوع کیا جا سکتا ہے لیکن جو طلاق دی گئی ،وہ اس عورت پر واقع شمار ہوگی، اور اس رجوع کے بعد شوہر کو مزید صرف دو طلاقوں کا حق رہے گا، اور اگر تین حیض گزر کر عدت پوری ہو گئی ہو، اور اس کے بعد یہ دونوں ازدواجی تعلقات چاہتے ہوں، تو اس صورت میں گواہوں کی موجودگی اور حقِ مہر کے تقرّر کے ساتھ دوبارہ عقدِ نکاح لازم ہے، اور اس کے بعد بھی اسے فقط دو طلاقوں کا اختیار رہیگا ۔
و في تفسير ابن كثير: أن المراد بالأقراء، الحيض، فلا تنقضي العدة حتى تطهر من الحيضة الثالثة، زاد آخرون: وتغتسل منها، وأقل وقت تصدق فيه المرأة في انقضاء عدتها ثلاثة وثلاثون يوما ولحظة، قال الثوري: عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: كنا عند عمر بن الخطاب رضي الله عنه فجاءته امرأة فقالت: إن زوجي فارقني بواحدة أو اثنتين فجاءني وقد نزعت ثيابي وأغلقت بابي، فقال عمر لعبد الله بن مسعود: أراها امرأته ما دون أن تحل لها الصلاة قال: وأنا أرى ذلك، وهكذا روي عن أبي بكر الصديق وعمر وعثمان وعلي وأبي الدرداء وعبادة بن الصامت وأنس بن مالك وابن مسعود ومعاذ، وأبي بن كعب وأبي موسى الأشعري وابن عباس وسعيد بن المسيب وعلقمة والأسود وإبراهيم ومجاهد وعطاء وطاوس وسعيد بن جبير وعكرمة ومحمد بن سيرين والحسن وقتادة والشعبي والربيع ومقاتل بن حيان والسدي ومكحول والضحاك وعطاء الخراساني أنهم قالوا: الأقراء الحيض.
وهذا مذهب أبي حنيفة وأصحابه وأصح الروايتين عن الإمام أحمد بن حنبل، وحكى عنه الأثرم أنه قال: الأكابر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولون: الأقراء الحيض، وهو مذهب الثوري والأوزاعي وابن أبي ليلى وابن شبرمة والحسن بن صالح بن حي وأبي عبيد وإسحاق بن راهويه.. (1/ 458)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0