پرائز بانڈ لینا جس کا انعام نکلا ہوا ہو، ہمارا مقصد کیپٹل کٹانا ہو، ٹیکس میں شو کرنے کے لیے، ایسا بانڈ لینا صحیح ہے یا نہیں؟
اولاً تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) اس کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، بلکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دی جاتی ہے در حقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے۔
اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہےکہ حکومت ہر پرائز بانڈ والے شخص سے اس کے دیئے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی، اگر وہ ایسا نہ کرے تو انعامی بانڈ رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے ، بلکہ وہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے ۔ چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈ کی حقیقت حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈ کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں، جب چاہے لے سکتے ہیں۔
اب یہ بھی سمجھ لیجئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورت انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے جو بحیثیت مجموعی جملہ پرائز بانڈز (انعامی بانڈز) رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث و فقہ کی روشنی میں بلاشبہ نا جائز اور سود ہے اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے۔
جتنے روپے کا انعامی بانڈ (پرائز بانڈ )ہے ،اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں زائد نہیں، اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈ ز پر ملنے والے انعام کی رقم حاصل کرلی ہو تو جتنی رقم انعام کی تھی اتنی رقم کے بانڈز لیکر انھیں جلادے یا پھاڑ کر ضائع کر دے تاکہ حکومت کو سود کی رقم واپس پہنچ جائے، کیونکہ اس رقم کا اصل حکم یہی ہے کہ جس سے لی ہے، اس کو واپس کر دے اور جب اصل کو لوٹانا مشکل ہو تو بلا نیت ثواب کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک وقابض بنا کر دیدے۔
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)
و في فقه البيوع : وقد زعم بعض المعاصرين جواز مثل هذه الجوائز على اساس ان الحكومة لا تشترط اعطاء زيادة لاحد من المقرضين حاملي السندفل العقد مع كل واحد من حملة السندا عقد قرض بدون فائدة ثم أنها تعطى الجوائز تبرعاً على اساس القرعة فلا يلزم منه الربوا ولكن هذا الاستدلال غير صحيح أما الاول فلان الحكومة تلتزم بتوزيع الجوائز على حملة السند فالزيادة على مبلغ هذا القرض ان لم تكن مشروطة لكل واحد من المقرضين فانها مشروطة تجاه مجموعة المقرضين اھ ( ۱/ 356)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1