گاؤں کے لوگوں کے لئے آنے جانے کا راستہ اب حکومت نے اس کو بند کیا ہے ؟ اب راستہ خریدنے کے لئے گاؤں کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زمین کے رقبے کے لحاظ سے پیسے جمع کیے جائیں ؟ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ گاؤں کی رؤوس کے اعتبار سے ، جس کا جس صورت میں فائدہ ہے وہ اختیار کرتا ہے ؟ ابھی اس میں شریعت کا حکم کیا ہے حوالہ کے ساتھ جواب تحریر فرمائیں ؟ شکریہ
سائل نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ مذکور راستہ گاؤں والوں کا مشترکہ راستہ تھا اور حکومت نے بلا کسی وجہ کے بند کیا ہے ؟ یا گاؤں والوں نے سرکاری املاک پر راستہ بنایا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو یہ راستہ بند کرنا پڑا، تاہم مذکور راستہ اگر گاؤں والوں کا مشتر کہ راستہ تھا، اور حکومت نے بلا کسی وجہ کے اس کو بند کرادیا تھا، تو اب شرعاً حکومتی عہدیداران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس راستہ کو کھول دیں، اور اس پر جو اخراجات آئیں گے ،وہ سرکار کے ذمہ لازم ہو نگے ، البتہ اگر حکومتی عہدیداران اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہ کر رہے ہوں اور گاؤں والے از خود راستہ کھولنے پر مجبور ہو تو ایسی صورت میں راستہ کھولنے پر آنے والے اخراجات زمین کے رقبہ کے بجائے اس راستہ کو استعمال کرنے والے تمام بالغ افراد کے ذمہ لازم ہونگے۔
ففي التاتارخانية: وفى السراجيه والخيرة : الطريق يقسم على عدد الرووس لا بقدر مساحة الاملاك اذا لم يعلم قدر الانصباء في الشرب حتى جهل قدر الانصباء يقسم على قدر الاملاك لا على عدد الرووس اھ (۱۷/ ۱۴۴)۔
و في الفتاوى الهندية: ولو اختصم أهل الطريق فادعى كل واحد منهم أنه له فهو بينهم بالسوية إذا لم يعرف أصله لاستوائهم في اليد على الطريق والاستعمال له ولا يجعل على قدر ما في أيديهم من ذرع الدار والمنزل لأن حاجة صاحب المنزل الصغير إلى الطريق كحاجة صاحب الدار الكبيرة وهذا بخلاف الشرب فإن عند اختلاف الشركاء يجعل الشرب بينهم على قدر أراضيهم وإن عرف أصل الطريق كيف كان بينهم جعلته بينهم على ذلك اھ (5/ 205)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1