کیا فلٹر شدہ پانی کو بطورِ تجارت کے بیچنا حرام ہے؟
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص پانی کو برتن ، مشکیزہ، ٹینک یا کین وغیرہ میں محفوظ کرلے تو وہ اس کی ملکیت قرار پاتا ہے، اس لئے اس پانی کو پیسوں کے عوض بیچنا جائز ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مختلف کمپنیاں جو پانی کو فلٹر وغیرہ کر کے بوتلوں میں بھر کر فروخت کرتی ہیں شرعاً یہ جائز ہے، بشرطیکہ حکومتی اجازت نامہ حاصل ہو اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے بھی مطابق ہو۔
کما فی رد المحتار: تحت (قوله وقيل لا) أي لا يملكه(الی قولہ) مطلب صاحب البئر لا يملك الماء وقال الرملي: إن صاحب البئر لا يملك الماء كما قدمه في البحر في كتاب الطهارة في شرح قوله: وانتفاخ حيوان عن الولوالجية فراجعه، وهذا ما دام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتيال كما في السواني فلا شك في ملكه له لحيازته له في الكيزان ثم صبه في البرك بعد حيازته. تأمل، ثم حرر الفرق بين ما في البئر وما في الجباب والصهاريج الموضوعة في البيوت لجمع ماء الشتاء بأنها أعدت لإحراز الماء فيملك ما فيها فلو آجر الدار لا يباح للمستأجر ماؤها إلا بإباحة المؤجر اهـ ملخصا الخ (5/67)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1