ہم گندم کی کاشت کے وقت گندم خرید کر کچھ ماہ بعد اسے منافع میں (جو کہ اس وقت کا بازار کاریٹ ہوتا ہے) بیچتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ گندم کی کتنی تعداد پر یہ ذخیرہ اندوزی میں شمار ہوگا ؟
اپنی ضرورت کے لیے یا معمولی مقدار میں گندم رکھنا تاکہ بعد میں ریٹ اچھے ہونے پر فروخت کیا جا سکے ، ذخیرہ اندوزی کے جرم میں داخل نہیں ، البتہ اتنی مقدار کو ذخیرہ کیا جائے کہ جس سے مارکیٹ میں گندم شارٹ ہونے کی وجہ سے اس کے نرخ میں بھی اضافہ ہو جائے اور لوگوں کو بلا وجہ گرانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، ذخیرہ اندوزی ہے ، جو کہ گناہ ہے ۔
ففي الدر المختار: (و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث «الجالب مرزوق والمحتكر ملعون» فإن لم يضر لم يكره اھ (6/ 398)
في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وكره احتكار قوت البشر) الاحتكار لغة: احتباس الشيء انتظارا لغلائه والاسم الحكرة بالضم والسكون كما في القاموس، وشرعا: اشتراء طعام ونحوه وحبسه إلى الغلاء أربعين يوما لقوله - عليه الصلاة والسلام - «من احتكر على المسلمين أربعين يوما ضربه الله بالجذام والإفلاس» اھ (6/ 398) والله اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1