اکثر اوقات لوگ پہلے شہر میں نمازِ جنازہ ادا کرتے ہیں اور پھر گاؤں میں ، برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں۔
میت پر ایک دفعہ نمازِ جنازہ پڑھی جانے کے بعد عند الاحناف دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں، لہذا اگر کسی میت پر شہر میں ایک دفعہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی تو میت کو دیہات منتقل کرنے کے بعد اس پر دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہ ہو گا ، البتہ اگر پہلی نمازِ جنازہ میں میت کا ولی ( باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ) شریک نہ ہوسکا ہو تو اس کی وجہ سے دوبارہ نماز جنازہ پڑھنے کی گنجائش ہو گی, لیکن جو ایک دفعہ شہر میں پڑھ چکے ہیں وہ ولی کے ساتھ بھی دوبارہ شریکِ نماز نہیں ہوسکتے -
كما فى الدر المختار : (فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (و لم يتابعه) الولي (أعاد الولي) و لو على قبره إن شاء لأجل حقه لا لإسقاط الفرض ؛ و لذا قلنا : ليس لمن صلى عليها أن يعيد مع الولي لأن تكرارها غير مشروع اھ (2/ 222)-
و فى حاشية ابن عابدين : فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي لأن الحق للأولياء ، و إن صلى الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده اهـ و نحوه في الكنز و غيره اھ (2/ 223) -